مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)سپریم کورٹ آزاد جمو ں وکشمیر کی پچاس سالہ گولڈن جوبلی تقریبات کی بہترین کوریج اور نظام فراہمی انصاف میں بہترین صحافتی خدمات پر چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے آج سپریم کورٹ آزاد جموںو کشمیر میں ایک پروقار تقریب میں صحافیوں کو ایوارڈ دیئے گئے ۔
تقریب میں چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر کے ہمراہجسٹس رضا علی خان سینئر جج سپریم کورٹ بھی موجود تھے۔۔
اس موقع پر چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیرجسٹس راجہ سعید اکرم خان نےاظہار خیال کرتے ہوئےکہا کہ آج کی یہ تقریب ریاست کے تمام صحافیوں کی خدمات کا اعتراف ہے۔
انھوں نے تمام صحافیوں کی جانب سے گولڈن جوبلی تقریبات کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آپ کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ سے ریاست کا بہت اچھا امیج پوری دنیا میں گیا ۔
آج کے دور میں میڈیا کا اہم ترین کردار ہے۔ ھائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے بارے میں کوئی خبر چھاپنے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیا کریں۔۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اہم شخصیت کا انتقال،سعودی شاہی خاندان غم میں ڈوب گیا
خبر بنانا آپ کا کام ہے لیکن اس کی صداقت کی تصدیق لازمی ہے اور یہ ہمارے دین کی ہدایات کے عین مطابق ہے۔۔
خبر کی صداقت کیلئے سپریم کورٹ کے متعلقہ آفیسر سے تصدیق لازمی ہے۔۔ انھوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔
یہ خطہ نہایت خوبصورت اور دلکش ہے۔ یہاں پر سیاحت کے مواقع بہت زیادہ ہیں اور یہ خطہ قدرتی حسن اور خوبصؤرتی سے مالا مال ہے۔۔
گولڈن جوبلی تقریبات میں شریک پورے پاکستان سے تشریف لانے والے مہمانوں نے اس خطہ کی خوبصورتی کی وجہ سے دوبارہ سے آزاد کشمیر میں آنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ پاکستان کے جج صاحبان کے علاوہ صوبائی چیف جسٹس صاحبان، گلگت بلتستان، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کے اور پورے پاکستان سے وکلاء کی قیادت، بار کونسل کے وائس چئیرمین، سپریم کورٹ بار پاکستان کے صدر کے علاوہ صوبائی بار کے صدور اور وائس چئیرمین ،لا آفیسرز اور اعلیٰ حکام نے اس تاریخٰ موقع پر شرکت کی جس پر میں سب کا دلی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں
۔ بالخصوص چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ پاکستان کے جج صاحبان نے دیگر تمام صؤبائی و دیگر چیف جسٹس صاحبان کے ہمراہ اپنا قیمتی وقت نکال کر ہماری دعوت پر جوڈیشل کانفرنس میں شرکت کر کے ہماری حوصلہ افزائی کی ۔
گولڈن جوبلی تقریبات میں ایک تاریخ رقم ہوئی ہے ۔ آزاد جموں و کشمیر میں ججز اور وکلا کے لئے ایک جوڈیشل اکیڈمی کا قیام لازمی تقاضا ہے۔۔ ہم نے جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے فورم سے متعدد بار اس جانب توجہ دلائی لیکن تا حال اکیڈمی کا قیام عمل میں نہیں لایا جا سکا ہے۔
اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔۔ صحافیوں کی نمایندگی کرتے ہوئے معروت کالم نگار طاہر فاروقی نے چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر کا شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے مفاد عامہ کے مقدمات میں فیصلوں پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آزاد کشمیر میں کریش پلانٹوں سے ایک روپیہ بھی ٹیکس کی مد میں آمدن نہیں ہو رہی تھی ۔
سپریم کورٹ نے متعلقہ اداروں سے اس سلسلہ میں فیکٹ فائنڈنگ کروائی اور کروڑوں روپے کا ٹیکس خزانہ سرکار میں جمع کروایا۔ ماحولیاتی آلودگی اور بیماریوں کا سبب بننے والے کریش پلانٹ بند کر دیئے۔
تاریخی اہمیت کے مقامات پر کریش پلانٹ لگا کر ان جگہوں کو نقصان پہنچایا جا رہا تھا۔ کامسر میں شاہراہ نیلم کے کناروں پر ہر وقت سلائیڈ ہو رہی تھی او ر کریش پلانٹوں کے دھویں کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہوتی تھی ۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے ملاوٹ شدہ دودھ اور اشیائے خوردونوش کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور ہزاروں لیٹر ملاوٹ شدہ دودھ کی دارالحکومت میں ترسیل بند ہوئی۔ بچوں کیلئے پاپڑ اور دیگر مضر صحت چیزیں مارکیٹ میں فروخت ہو رہی تھیں جس پر سختی سے متعلقہ محکموں کو احکامات جاری کئے گئے۔
فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریاں قائم کی گئیں اور پہلی بار آزاد کشمیر میں فوڈ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ادویات کی چیکنگ اور ان کے معیار کا جائزہ لینے کے لئے بھی اسی طرح کی اتھارٹی اور لیبارٹریوں کی ضرورت ہے۔
سپریم کورٹ نے مفاد عامہ کے ایک مقدمہ میں آزاد جموں و کشمیر میں خالصہ سرکار اراضیات کی غیر قانونی الاٹمنٹ کو بھی روکا اور اس سلسلہ میں آزاد کشمیر کے تمام کمشنرز اور بورڈ آف ریونیو کو احکامات جاری کئے۔
بنجوسہ اور تاؤبٹ میں جنگلات کی ہزاروں کنال اراضی کو واگزار کروا کر محکمہ جنگلات کے حوالے کیا۔محکمہ اوقاف کی ہزاروں کنال اراضی پر لوگوں نے قبضہ کر رکھا تھا ۔۔
سپریم کورٹ نے انتظامیہ اور محکمہ اوقاف کے حکام کو اس اراضی کی واگزاری کے احکامات جاری کئے اور ابھی تک اوقاف کی 400 کنال کے لگ بھگ اراضی واگزار کروا لی گئی ہے۔ اسی طرح دیگر بہت سے مقدما ت میں سرکاری رقبہ جات پر غیر قانونی قبضہ کے خلاف احکامات جاری کئے۔
اس موقع پر جناب جسٹس رضا علی خان سینئر جج سپریم کورٹ نے کہا کہ پرنٹ اور الیکٹڑانک میڈیا ان تمام معاملات میں اہم ترین کردار ادا کر سکتا ہے۔
چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ ریاستی اداروں سے داد رسی نہ ملنے کی صورت میں لوگ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں۔۔ الحمدللہ عوام کا ریاستی عدلیہ پر اعتماد ہے۔۔ ہم سرکاری خزانہ سے تنخواہ لیتے ہیں ، قانون کے مطابق فیصلے کرتے رہیں گے۔
ایک صحافی کے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ایک غریب اور نادار شہری کو مقدمہ کی پیروی کے لئے سہولت مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ہمارے سامنے کوئی بھی شہری خود پیش ہو کر پیروی کر سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں کی قابلیت پر کوئی شک نہیں ہے۔ صحافیوں کو ایوارڈ دینے کا یہ دوسرا مرحلہ ہے ۔ اس سلسلہ میں مزید تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔۔۔تقریب کے اختتام پلر تمام صحافیوں نے چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر اور سینئر جج سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا۔۔۔




