دنیا بھر میں غیر رجسٹرڈ وی پی این قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے واضح کیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ وی پی این ملکی سالمیت کے لیے وقت کی اہم ضرورت کے مطابق بند کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ غیر رجسٹرڈ وی پی این دنیا بھر میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے لیے ڈھال بن چکا ہے۔ دہشت گرد، جرائم پیشہ اور شدت پسند افراد اپنے وجود کو چھپانے کے لیے غیر رجسٹرڈ وی پی این کا استعمال کرتے ہیں جبکہ ان کے ذریعے حملوں کی منصوبہ بندی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں بھی چلائی جا رہی ہیں۔

پی ٹی اے کی جانب سے غیر قانونی یو آر ایلز (URLs) اور غیر اخلاقی مواد پھیلانے والی ویب سائٹس کو تصدیق کے بعد بلاک کیا جا رہا ہے تاکہ انٹرنیٹ پر گمراہ کن مواد کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ غیر رجسٹرڈ وی پی این کے ذریعے اربوں روپے کے ٹیکس اور فیس بھی بیرون ملک منتقل ہو جاتے ہیں، جس سے نہ صرف قومی سلامتی بلکہ خزانہ پر بھی بھاری بوجھ پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دہشتگرد غیر رجسٹرڈ وی پی این کا استعمال کر رہے ہیں، طلال چوہدری

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ غیر قانونی وی پی این کے استعمال سے انٹرنیٹ کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور رفتار بھی سست ہو رہی ہے، جبکہ دہشت گرد اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وی پی این کی مفت سروس حقیقت میں پرائیویسی کی قیمت پر چلتی ہے، جس سے صارفین کو ممکنہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:فیک نیوز پھیلانے والوں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی،وزیرداخلہ محسن نقوی

بین الاقوامی منظر نامے پر بھی صورتحال سنگین ہے۔ بھارتی جریدہ انڈیا ٹوڈے کے مطابق بھارتی حکومت نے وی پی این خدمات کے لیے سخت نئی ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ نگرانی کو مزید بڑھایا جا سکے۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے راجوڑی اور پونچھ اضلاع میں سیکیورٹی خدشات کے باعث دو ماہ کے لیے وی پی این معطل کر دی گئی، جیسا کہ دی ہندو نے رپورٹ کیا۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صرف منظور شدہ اور رجسٹرڈ وی پی این کا استعمال ہی پاکستان کو سنگین خطرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے اور دہشت گردوں، جرائم پیشہ افراد اور شدت پسندوں کی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

Scroll to Top