مظفرآباد: سیکرٹری سیرا خالد محمود مرزا نے کہا ہے کہ رواں مالی سال شعبہ تعلیم کے ایسے منصوبے جن پر 80فیصد تعمیراتی کام مکمل ہوچکا ہے ان کیلئے حکومت پاکستان کی طرف سے ایک ارب روپے فراہم کئے جارہے ہیں جن سے ان منصوبوں کی تکمیل کی جائے گی۔
لوکل گورنمنٹ اکیڈمی لالہ موسیٰ پنجاب میں زیر تربیت میونسپل و چیف افسران سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پانی کے قدرتی راستوں پر غیرقانونی اور بے ہنگم تعمیرات کے خطرناک نتائج سے بچنا ممکن نہیں۔
یہ افسوسناک امر ہے کہ ہم نے 2005ء کے قیامت خیز زلزلہ،2011ء بعدازاں 2022ء میں آنے والے تباہ کن سیلابوں سے حقیقی معنوں میں کوئی سبق نہیں سیکھا۔
یہ بھی پڑھیں: دانش سکولوں کا قیام وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کا انقلابی اقدام، فیصل راٹھور
8اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلہ میں آزاد کشمیر کے 7اضلاع میں 46574 قیمتی انسانی جانوں (جن میں تعلیمی اداروں کے طلبہ اور اساتذہ بھی) کی جدائی کا دکھ برداشت کرنے کے علاوہ، اربوں روپے مالیت کی تعمیر کی گئی نجی و سرکاری املاک آن واحد میں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
زلزلہ متاثرہ علاقوں میں جاری تعمیرنو پروگرام کے بارے میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری سیرا عابد غنی میر نے کہا کہ حکومت پاکستان نے زلزلہ متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے وفاقی سطح پر ایرااور آزاد کشمیر میں سیرا اور خیبرپختونخوا میں پیرا کے نام سے ادارے قائم کئے۔
تعمیرنو پروگرام کے تحت آزاد کشمیر میں تعلیم، صحت، گورننس سمیت دیگر شعبوں میں 7608 منصوبہ جات مرتب کرکے تعمیرنو کا آغاز کیا، جن میں سے 5878 منصوبے مکمل کرکے سیرا نے متعلقہ محکموں کے سپرد کردئیے۔
919 منصوبوں پر کام جاری فنڈز نہ ملنے کے باعث ان منصوبوں پر تعمیراتی کام تعطل کا شکار ہے جبکہ 811 منصوبوں پر فنڈز کی قلت کے باعث کام شروع ہی نہیں کیا جاسکا۔
زلزلہ کی قدرتی آفت کو 20 سال گزر چکے ہیں ابھی تک آزاد کشمیر کے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں دو لاکھ بچے اور بچیاں انتہائی گرم و سرد موسم میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
زلزلہ متاثرہ علاقوں میں مرتب کیے گئے ان منصوبوں کے لیے 44.125بلین روپے درکار ہیں، 2010ء کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے منصوبوں کی تکمیل کے لیے فنڈز کی قلت کے باعث ابھی تک 1710 منصوبے مکمل کرنا باقی ہیں۔
سیکرٹری سیرا خالد محمود مرزا نے کہا کہ قدرتی آفات کو روکنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی، محفوظ تعمیرات اور بروقت حفاظتی اقدامات کے ذریعے نقصانات کو نمایاں طور پر کم کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دچھور میراں ہائی سکول کی عمارت 17 سال بعد بھی نامکمل، طلباء حکومت کیخلاف پھٹ پڑے
انہوں نے کہا کہ آج ملک کے مختلف حصوں خصوصاً پنجاب،خیبرپختونخوااور گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں کے نتیجے میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے، جس کی بنیادی وجہ لوگوں کی جانب سے ندی نالوں کے کناروں اور قدرتی بہاؤ کے راستوں پر تعمیرات ہے۔
انہوں نے کہا کہ بار بار قدرتی آفات کا سامنا کرنے کے باوجود ہم نے پائیدار منصوبہ بندی کو اہمیت نہیں دی، اور اسی غفلت نے قیمتی انسانی جانوں اور اربوں روپے کے نقصانات کو جنم دیا۔
سیکرٹری سیرا خالد محمود مرزا نے کہا کہ 2005ء کے زلزلے نے ہمیں یہ باور کرایا تھا کہ غیر محفوظ تعمیرات کس قدر خطرناک ثابت ہوسکتی ہیںمگر افسوس کہ ہم نے اس المیے سے سبق حاصل کرنے کے بجائے دوبارہ وہی غلطیاں دہرائیں۔
سیکرٹری سیرا نے زور دیا کہ مستقبل میں اگر ہم نے قدرتی آفات کو محض ایک وقتی حادثہ سمجھ کر نظرانداز کیا تو آنے والے برسوں میں تباہی کے اثرات مزید شدید ہوں گے۔
اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹرز راجہ طارق عزیز، جاوید گنائی، سسٹم انجینئر شمریز ملک سمیت دیگر بھی موجود تھے۔




