لاہور: اتوار کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبر پختونخوا حکومت پر دہشتگردوں کی پشت پناہی اور اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے خلاف منظم سازشیں کی جا رہی ہیں اور خیبر پختونخوا میں اسمگلنگ سے حاصل ہونے والا پیسہ دہشتگردی میں استعمال ہو رہا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ملک میں جان بوجھ کر بے بنیاد افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، جو منظم سازش کا حصہ ہیں، جبکہ بعض ملک دشمن عناصر کے ساتھ پی ٹی آئی کا کٹھ جوڑ بھی کھل کر سامنے آ رہا ہے۔
وزیر اطلاعات نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان سے دراندازی روکنے کے لیے مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، تاہم پی ٹی آئی کے لوگ افغانستان کی حمایت میں ان کے غیر سرکاری ترجمان بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی اسمبلی میں کھڑے ہو کر بار بار افغانستان کی بات کرتے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بشام دھماکے میں پکڑی گئی گاڑیاں نان کسٹم پیڈ تھیں اور خیبر پختونخوا میں آج بھی ہزاروں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دندناتی پھر رہی ہیں۔ عطا اللہ تارڑ کے مطابق پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت برسوں میں اس مسئلے کا حل نہیں نکال سکی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پہاڑ کاٹے جا رہے ہیں، معدنیات نکالی جا رہی ہیں اور غیر قانونی ٹھیکے دیے جا رہے ہیں، اور یہ سب کچھ حکومتی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔
وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں اسمگلنگ حکومت کی نگرانی میں جاری ہے اور منشیات کی اسمگلنگ میں وزیراعلیٰ خود ملوث ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے لوگ دہشتگردوں کو شیلٹر فراہم کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان مصر تعاون میں بڑی پیش رفت،وزرائےخارجہ کی مشترکہ پریس کانفرنس
اس موقع پر انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ ’’بانی پی ٹی آئی کی سیاست جھوٹ، بہتان اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔ ملکی مفاد پر سیاست کرنے والوں کو بھارتی چینلز پر بیانات دینے پر شرم آنی چاہیے۔ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کمزور ہو، بھارت حملہ کرے اور عمران نیازی رہا ہو‘‘۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیاست اور دہشتگردی کا کٹھ جوڑ موجود ہے اور یہی وہ خرابیاں ہیں جن کی وجہ سے دہشتگردوں کا نیٹ ورک مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ صوبے میں 4 ہزار دہشتگردی کے مقدمات کے فیصلے التوا کا شکار ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر تماشے لگائے جاتے ہیں اور پولیس اہلکاروں کو دھکے دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی صفوں میں شدید اختلافات ہیں اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا صرف اپنی ملاقات کرانے پر زور دیتے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ آج ملک میں ایکسپورٹرز کو وہ مشکلات نہیں جو پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں تھیں۔ وزیراعظم شہباز شریف معاشی اصلاحات پر کام کر رہے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت دہشتگردوں کو پناہ دینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کچہری خودکش حملہ:منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، 4 سہولت کار گرفتار، عطا اللہ تارڑ
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کا بھارتی چینلز پر مؤقف پاکستان کے مؤقف کے خلاف ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے سوال اٹھایا کہ بھارتی میڈیا پر پاکستان کے اہم دفاعی کارنامے، خصوصاً دشمن کے جہاز گرانے کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی قیادت افواہیں پھیلا کر افواجِ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے اور 9 مئی کے واقعات میں بانی پارٹی کی بہنیں مسلح جھتوں کے ساتھ موجود تھیں، جس کے شواہد موجود ہیں۔
سہیل آفریدی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وہ ’’اڈیالہ جیل کے باہر نعرے لگانا، تصاویر صاف کرنا اور جوتی کا ناپ لینا تو جانتے ہیں لیکن پراسیکیوشن کے اسپیلنگ تک نہیں آتے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کی حرکات سے واضح ہے کہ یہ ملک و اداروں کے خلاف پراپیگنڈا مہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔
آخر میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک میں پھیلائی جانے والی افواہوں کا مقصد خوف اور انتشار پیدا کرنا ہے، لیکن حکومت ملکی سلامتی اور آئینی بالادستی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔




