استنبول(کشمیر ڈیجیٹل) ترک عدالت نے صدر اردوان کو دھمکی دینےکے الزام میں صحافی کو قید کی سزا سنادی۔
غیر ملکی میڈیاکے مطابق ترکیے کی عدالت نے ترک صحافی فاتح التیلی کو صدر رجب طیب اردوان کودھمکی دینےکےجرم میں 4 سال 2 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق صحافی کو جون میں گرفتار کیا گیا تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:دنیا کی بہترین ایئرلائنز کی فہرست،پاکستان اور امریکہ جگہ نہ بناسکے
ترک صحافی فاتح التیلی پر الزام تھا کہ انہوں نے یوٹیوب چینل پر 70 فیصد افراد کے اردوان کے صدر بننے کی مخالفت کے سروے پر بات کی تھی اور کہا تھاکہ سلطنت عثمانیہ کےکئی سلطانوں کو قتل کیا گیا تھا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق سرکاری نشریاتی ادارے این ٹی وی اور دیگر ذرائع نے اطلاع دی کہ یوٹیوب پر 15 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز رکھنے والے صحافی فاتیح آلتیائی کو ہفتے کے روز ایک ویڈیو پر گرفتار کرلیا گیا۔
انہوں نے یہ ویڈیو جمعہ کو پوسٹ کی تھی جس میں وہ ایک رائے عامہ کے جائزے پر بات کر رہے تھے جس میں زیادہ تر ترک عوام نے اردوان کی تاحیات حکمرانی کی مخالفت کی تھی۔
فاتیح آلتیائی نے سلطنتِ عثمانیہ کے حکمرانوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ترکوں نے اُن حکمرانوں کو ’قتل‘ یا ’ڈبو‘ دیا جنہیں وہ اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔
استنبول کے استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ان بیانات میں ترکیہ کے صدر کے خلاف ’دھمکی آمیز رویہ تھا جس کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، صحافی نے عدالت میں ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور انہیں ایسے بنایا گیا جیسے وہ دھمکیاں ہوں، حالانکہ وہ صرف تاریخی حوالوں کا اظہار کررہے تھے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ مہینوں میں اپوزیشن شخصیات کی گرفتاریاں بڑھ گئی ہیں، جن میں مارچ میں استنبول کے میئر اور اردوان کے سیاسی حریف سمجھے جانے والے اکرم امام اوغلو کی گرفتاری بھی شامل ہے۔




