گلگت بلتستان میں فری لانسنگ کمیونٹی کی اندازاً سالانہ آمدن بڑھ کر 15 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو خطے میں موجود آئی ٹی کمپنیوں کی آمدن سے کہیں زیادہ ہے جو سالانہ 3.5 ملین ڈالر کے قریب ہے۔
آئی ٹی صنعت کی تنظیم P@SHA کی جانب سے جاری کردہ گلگت بلتستان آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس سیکٹر ڈائیگناسٹک رپورٹ کے مطابق، خطے کے ٹیک سیکٹر سے حاصل ہونے والی مجموعی سالانہ آمدن کا تخمینہ 15 ملین ڈالر سے 18 ملین ڈالر کے درمیان ہے۔
فری لانسنگ کمیونٹی جس کی تعداد تقریباً 3,000 سے 4,000 افراد کے درمیان ہے سالانہ 10 ملین ڈالر سے 15 ملین ڈالر تک کماتی ہے جبکہ تقریباً 110 سے 120 آئی ٹی کمپنیاں مجموعی طور پر 3.5 ملین ڈالر کے قریب آمدن حاصل کرتی ہیں۔
گلگت بلتستان تیزی سے پاکستان میں فری لانسنگ کا ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے جہاں نوجوان پروفیشنلز عالمی کلائنٹس کو اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فری لانسرز اور اسٹارٹ اپس کیلئے ایک کروڑ تک کے بلاسود قرض کا اعلان
اپ ورک اور فائور جیسے مشہور فری لانسنگ پلیٹ فارمز نے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو متوجہ کیا ہے جو گرافک ڈیزائن، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، کانٹینٹ رائٹنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں اپنی مہارتیں استعمال کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ ریموٹ ورک ماڈل باصلاحیت افراد کو گلگت بلتستان میں رہتے ہوئے بین الاقوامی منڈیوں کو خدمات فراہم کرنے کے قابل بناتا ہے، جو خطے کی جغرافیائی دوری کے باعث ایک موزوں انتظام ہے۔
گلگت بلتستان کی سرزمین انفراسٹرکچر، کنیکٹیوٹی اور موسم سے متعلق چیلنجز کے باوجود اپنی بلند شرح خواندگی کے باعث غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گلگت بلتستان پاکستان میں بلند ترین شرح خواندگی رکھنے والے علاقوں میں شامل ہے اور یہاں نوجوان ٹیلنٹ کا ایک متحرک ذخیرہ موجود ہے، تاہم اعلیٰ درجے کی آئی ٹی مہارتوں اور مینٹورشپ میں ابھی بھی خلا پایا جاتا ہے۔
اس انسانی سرمائے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے منظم اسکلز ٹریننگ، انٹرن شپس اور مسلسل سیکھنے کے پروگرامز کی ضرورت برقرار ہے۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے فری لانسرز کا ٹیلنٹ حیران کن حد تک شاندار ہے، جو اسکلز ڈیولپمنٹ اداروں، کمرشل بینکس، سروس پرووائیڈرز، نان گورنمنٹل آرگنائزیشنز اور حکومت کے باہمی تعاون سے ممکن ہوا ہے۔
انہوں نے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ گلگت بلتستان کے اضلاع میں نوجوانوں کی سہولت اور مہارتوں کی ترقی میں سرمایہ کاری کریں تاکہ فارن ایکسچینج کی آمدنی حاصل کی جا سکے۔
ان کے مطابق گلگت بلتستان کی سرزمین اپنی بلند شرح خواندگی کی وجہ سے غیر معمولی ہے، جو مضبوط ہیومن کیپیٹل پروڈکٹیوٹی کو ممکن بناتی ہے اور انفراسٹرکچر، کنیکٹیوٹی اور موسم سے متعلق مسائل کے باوجود ملک کے لیے قابل ذکر آمدن فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کے اضلاع میں فری لانسر کمیونٹی کو بااختیار بنانے اور انہیں قومی فری لانسنگ ایکو سسٹم سے جوڑنے کے لیے فری لانس فیسٹ گلگت 2022 جیسے ایونٹس کا انعقاد جاری رکھے گی۔
ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں نمایاں پیش رفت میں موبائل براڈ بینڈ کی توسیع، خطے کے پہلے ٹیکنالوجی پارکس کا قیام، اور مقامی ٹیک اسٹارٹ اپس اور فری لانسر کمیونٹیز کا ابھرنہ شامل ہے، جو ایک بڑی تبدیلی کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔
2018 سے قبل گلگت بلتستان میں عملاً کوئی مخصوص آئی ٹی پارکس، کو ورکنگ اسپیسز یا انکیوبیٹرز موجود نہیں تھے۔ یہ صورتحال اس وقت بدلنا شروع ہوئی جب حکومت کے اسپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن (ایس سی او) نے ٹیک ایکو سسٹم کی معاونت کے لیے اقدامات کیے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 2025-26: یوٹیوبرز، فری لانسرز، ٹک ٹاکرز پر 3.5 فیصد انکم ٹیکس عائد ہونے کا امکان
گلگت اور اسکردو میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس قائم کیے گئے، جن میں دفتری سہولیات، قابل اعتماد انٹرنیٹ اور بیک اپ پاور فراہم کی گئی۔
ان سہولیات نے 1,000 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کیے اور 3,000 سے زیادہ آئی ٹی طلبہ کو تربیت دی، جبکہ گلگت بلتستان کی چند ابتدائی باضابطہ رجسٹرڈ آئی ٹی کمپنیوں کو بھی یہاں جگہ فراہم کی گئی۔
ایس سی او نے آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے تعاون سے گلگت میں ایک فری لانسنگ حب بھی قائم کیا، جہاں اس وقت 14 آئی ٹی کمپنیاں اور 45 فری لانسرز موجود ہیں، جو اختراع اور تعاون کے مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے۔
آغا خان فاؤنڈیشن نے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں تین بڑے ٹیک ہبز بھی قائم کیے ہیں، جہاں کو ورکنگ اسپیسز، تربیتی سہولیات اور انکیوبیشن سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔
گلگت بلتستان کا آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس سیکٹر اگرچہ اب بھی چھوٹا ہے مگر نمایاں ترقی دکھا رہا ہے۔
خطے میں تقریباً 300 آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس کمپنیاں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، تاہم ان میں سے صرف 100 سے 120 کو فعال سمجھا جاتا ہے۔
شعبے کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ گلگت بلتستان کے شہری مراکز میں رجسٹرڈ آئی ٹی فرموں کی تعداد کم ہے، جبکہ فری لانسرز اور غیر رسمی ٹیموں کی ایک بڑی کمیونٹی موجود ہے۔
مجموعی ٹیک ورک فورس کا تخمینہ 6,000 سے 7,000 افراد کے درمیان ہے، جن میں کمپنی ملازمین اور فری لانسرز دونوں شامل ہیں۔
غیر مستحکم بجلی اور محدود ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سب سے بڑے چیلنجز ہیں۔ تقریباً 88 فیصد آئی ٹی فرموں نے بجلی کی بندش کے باعث خلل کی شکایت کی، جبکہ غیر ہموار براڈ بینڈ کوریج کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ مسائل گلگت بلتستان میں بجلی اور ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر میں فوری بہتری کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔




