سری نگر (کشمیر ڈیجیٹل)جموں و کشمیر پیپلز لیگ کے رہنما پاکستان میں مقیم محمد یعقوب شیخ کی مقبوضہ کشمیر میں جائیدادضبط کر لی ۔
انتظامیہ نے ضلع پلوامہ کے علاقے پامپور میں محمد یعقوب شیخ کا گھر اور چار مرلہ ارضی ضبط کی۔ آزادی پسند تنظیم جموں وکشمیر پیپلز لیگ سے وابستہ محمد یعقو ب شیخ اس وقت آزاد جموں وکشمیر میں مقیم ہیں۔
انہوں نے بھارتی مظالم کی وجہ سے آزاد کشمیر ہجرت کی ہے۔محمد یعقوب شیخ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شیخ عبدالعزیز شہید کے چھوٹے بھائی ہیں۔
شیخ عبدالعزیز کو بھارتی فوجیوں نے11اگست 2008میں کو ضلع بارہمولہ کے علاقے اوڑی میں اس وقت شہید کیا تھا جب وہ ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے وادی کشمیر کی معاشی ناکہ بندی کے خلاف آزاد جموں و کشمیر کی طرف ایک بڑے مارچ کی قیادت کررہے تھے
قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل 12 نومبر سرینگر میں سینئر ایڈوکیٹ اور کشمیر بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر میاں قیوم کے دو منزلہ رہائشی مکان کو ضبط کر لیا گیا تھا۔
یہ کارروائی سال 2009 کے ‘بھارت مخالف سیمینار میں میاں قیوم کی شرکت سے متعلق درج ایک کیس کے سلسلے میں انجام دی گئی۔ میاں قیوم اس وقت بھارتی قید میں ہیں۔
ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کشمیر کے لوگ اس وقت انتہائی بے اختیاری اور مایوسی سے دوچار ہیں۔
مزید یہ بھی پڑیںپی ٹی آئی رہنما مونس الٰہی کو کلین چٹ، انصاف کی فتح قرار
سری نگر میں اجتماع سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میر واعظ نے کہا کہ وہ بارہا واضح کر چکے ہیں کہ جامع مسجد کا منبر و محراب لوگوں کی آواز کا نمائندہ ہے اور کشمیر کے لوگ اس وقت انتہائی بے اختیاری اور مایوسی سے دوچار ہیں۔
جب کہ بنیادی مسئلہ بدستور حل طلب ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کے عوام کو دی گئی آئینی خود مختاری بھی اگست 2019 میں چھین لی گئی،
جب ریاست کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کیا گیا اور زمین و روزگار کے حقوق بھی ان سے واپس لے لیے گئے۔ اس کے فوری بعد آبادی میں تبدیلی کے خدشات نے لوگوں میں شدید خوف پیدا کیا۔
اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندی، ہر وقت نگرانی کا ماحول، ملازمت سے من مانے انداز میں برطرف کیے جانے اور زمین و جائیداد ضبط کیے جانے کا اندیشہ، تحقیقاتی ایجنسیوں کے مسلسل چھاپے اور گرفتاریوں نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا۔




