لاہورہائیکورٹ: جسٹس شمس محمود مرزا بھی عہدے سے مستعفی

لاہور(کشمیر ڈیجیٹل) جسٹس شمس محمود مرزا نے لاہور ہائی کورٹ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے ذاتی وجوہات کی بنا پر عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوادیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، جسٹس شمس محمود مرزا اس وقت ہائی کورٹ میں سنیارٹی میں پانچویں نمبر پر تھے اور 22 مارچ 2014 کو لاہور ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا تھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:اردن کے بادشاہ عبداللہ دوئم پاکستان پہنچ گئے، فقید المثال استقبال

جسٹس شمس محمود مرزا لاہور ہائی کورٹ کی ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ کی متوقع تاریخ 6 مارچ 2028 تھی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ان کے استعفے کی وجوہات ذاتی ہیں، تاہم عدالتی اور آئینی حالات بھی اس میں اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

یہ استعفیٰ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفیٰ کے بعد سامنے آیا اور ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد لاہور ہائیکورٹ سے یہ پہلا استعفی ہے وہ گیارہ برس سے زائد عرصہ تک لاہور ہائیکورٹ کے جج رہے

جسٹس شمس محمود مرزا 22 مارچ 2014 کو لاہور ہائیکورٹ کے جج مقرر ہوئے اور اس وقت سینیارٹی کے اعتبار سے 5 ویں نمبر پر تھے۔

علاوہ ازیں جسٹس امین الدین کو وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا، آئینی ترمیم کے مطابق موجودہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی اپنی مدت ملازمت تک چیف جسٹس آف پاکستان رہیں گے،

تاہم ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس صاحبان میں سے سینئر جج ہی چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حق دار ہوگا۔

یاد رہے کہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل (اے اے جی) نے لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس شمس محمود مرزا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) میں شکایت درج کرائی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ جج نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقات پر 7 سال سے جاری رہنے والے حکم امتناع کو بڑھا کر ایک آئل مارکیٹنگ کمپنی کو فائدہ پہنچایا ہے۔

Scroll to Top