ریونیو ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میرپور لاوارث، ملازمین کے کروڑوں روپے ڈوب گئے

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)ریونیو ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میرپور میں 16 سال بعد بھی ترقیاتی کام نہ ہو سکے، کروڑوں روپے جمع کرنے کے باوجود ملازمین بنیادی سہولیات سے محروم ہوگئے

طاقتور مافیا آڈٹ کی راہ میں رکاوٹ بن گیا، مبینہ کرپشن کا انکشاف، تاحال کسی کے خلاف کارروائی نہ کی جا سکی،تحقیقات میں بڑے اور بظاہر معتبر نام سامنے آنے کا امکان

متاثرہ ملازمین نے ریاست گیر احتجاج کے لئے مشاورت شروع کر دی ۔تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر ریونیو ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ میرپور جو 21 مئی 2009 کو رجسٹرار امدادِ باہمی مظفرآباد کے تحت رجسٹر ہوئی تھی

قیام کے 16 برس بعد بھی ترقیاتی کاموں سے محروم ہے۔ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے درجنوں حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین نے الزام عائد کیا ہے کہ سوسائٹی نے ان سے کروڑوں روپے وصول کئے۔
مگر آج تک سڑک، بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔

دستاویزات کے مطابق سوسائٹی کی رجسٹریشن محکمہ امدادِ باہمی ضلع میرپور کی سفارش نمبر 134۔ 15 مئی 2009 کی روشنی میں عمل میں لائی گئی۔

منظوری کے تحت سوسائٹی کے اثاثہ جات کی سالانہ آڈٹ لازمی قرار دی گئی تھی، مگر متاثرہ ملازمین کے مطابق 16 سال گزرنے کے باوجود آج تک کوئی آڈٹ نہیں ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سوسائٹی نے ملازمین سے رقوم اکٹھی کر کے تقریباً 1400 کنال اراضی خریدی، مگر اس پر ترقیاتی منصوبے تاحال شروع نہیں کیے جا سکے۔

ریٹائرڈ ملازمین نے الزام لگایا ہے کہ چند بااثر افسران اور بعض حاضر سروس بیوروکریٹس آڈٹ کے عمل میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں تاکہ مبینہ مالی بے ضابطگیاں سامنے نہ آئیں۔

شکایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک کنال کے پلاٹوں میں سے آٹھ مرلہ کی غیر قانونی کٹوتی کی گئی ہے، حالانکہ متعلقہ پلاٹ ہولڈرز ڈویلپمنٹ چارجز بھی ادا کر چکے ہیں۔

متأثرہ افراد کے مطابق سوسائٹی میں محکمہ مال کے مسلمہ قانون — 272 مربع فٹ فی مرلہ — کی بھی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ یہ سوسائٹی سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری احسان خالد کیانی کی سرپرستی میں قائم ہوئی تھی جنہوں نے اسے ایک فلاحی منصوبے کے طور پر شروع کیا۔۔

مگر ان کے تبادلے کے بعد سوسائٹی کا انتظام غیر شفاف عناصر کے قبضے میں چلا گیا۔ اس کے بعد سے نہ صرف ترقیاتی کام رُکے ہوئے ہیں بلکہ سوسائٹی کے مالی امور پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے، اور مختلف محکموں کو تحریری درخواستوں کے ذریعے معاملے کی نشاندہی کر چکے ہیں۔۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وقاص اکرم کے وارنٹ گرفتاری، عمر ایوب، زرتاج گل کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم

مگر ریاستی بیوروکریسی کی بے حسی کے باعث کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ متعدد ریٹائرڈ ملازمین اپنی جمع پونجی، گھریلو زیورات اور مال مویشی بیچ کر پلاٹ حاصل کر چکے ہیں

مگر آج تک زمین پر ترقیاتی کام شروع نہ ہونے کے باعث وہ شدید مالی و ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ملازمین نے وزیراعظم آزاد کشمیر، چیف سیکرٹری، سیکرٹری امدادِ باہمی اور رجسٹرار امدادِ باہمی سے مطالبہ کیا کہ سوسائٹی کا خصوصی آڈٹ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں

تاخیر کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے اور ملازمین کو ان کا حق دلایا جائے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی تو وہ اپنا معاملہ عوامی جائنٹ ایکشن کمیٹی، پاک فوج یا وزیراعظم پاکستان کے سامنے پیش کرنے پر مجبور ہوں گے۔

متاثرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ریاستی اداروں — بشمول اینٹی کرپشن، احتساب بیورو اور ایف آئی اے کو فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے اس مبینہ مالی اسکینڈل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنی چاہئیں تاکہ ریونیو ملازمین کی محنت کی کمائی ضائع ہونے سے بچ سکے۔

Scroll to Top