عرفان صدیقی کا اصلی نام عرفان الحق صدیقی تھا لیکن وہ اپنے قلمی نام عرفان صدیقی کے نام سے زیادہ معروف اور جانے جاتے تھے۔
وہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے سینیٹ آف پاکستان کے رکن اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین تھے۔
عرفان صدیقی راولپنڈی کے مضافاتی علاقے چک بیلی خان روڈ پر ایک گاؤں ڈھوک بدہال میں 25 دسمبر 1949 کو پیدا ہوئے۔
ابتدائی تعلیم گاؤں کے اسکول سے ہی حاصل کی، بعدازاں اُنہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں: نوازشریف کے قریبی ساتھی، سینئر لیگی رہنما سینیٹر عرفاق صدیقی انتقال کر گئے
عرفان صدیقی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بطور پرائمری سکول ٹیچر سے کیا، بعد ازاں ترقی کر کے ہائی سکول اور اس کے بعد سرسیّد کالج راولپنڈی میں اُردو کے لیکچرر مقرر ہوئے۔
بطور استاد کیریئر کے ایک طویل عرصے کے بعد اُنہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا اور مختلف اخبارات میں کالم لکھنے شروع کئے۔
1997 میں جب پاکستان مسلم لیگ نواز برسر اقتدار آئی تو عرفان صدیقی کو اس وقت کے صدرِ مملکت رفیق تارڑ کا پریس سیکرٹری اور تقریر نویس مقرر کیا گیا جہاں سے پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ ان کے تعلق کا آغاز ہوا۔
نوازشریف کے دور حکومت میں عرفاق صدیقی ان کے معاون خصوصی رہے۔
عرفان صدیقی ایک مڈل کلاس لیکن تعلیمی روایات کے حامل گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔
اِسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیر صدیقی ان کے ماموں زاد بھائی جبکہ جماعتِ اِسلامی کے سابق معروف رہنما کئی کتابوں کے مصنف نعیم صدیقی بھی ان کے کزن تھے۔ عرفان صدیقی کے والد بھی اپنے دور کے اعتبار سے ایک علمی شخصیت تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹر عرفان صدیقی کی طبیعت ناساز، ہوسکتا ہے ووٹ نہ ڈال سکیں
عرفان صدیقی سیاسی و فکری مباحثے میں اپنی نرم، نفیس اور باوقار تحریری اسلوب کے باعث منفرد مقام رکھتے تھے۔ ان کا شمار ان لکھاریوں میں ہوتا تھاجنہوں نے پاکستانی صحافت کو وقار، شائستگی اور سنجیدگی بخشی۔
2018 میں جب پاکستان تحریک اِنصاف کی حکومت بنی تو اُنہیں ایک بے بنیاد مقدمے میں ہتھکڑیاں لگا کر سبق سِکھانے کی کوشش بھی کی گئی۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے مئی 2024 میں اپنے اُردو کالموں کا مجموعہ پی ٹی آئی اینڈ پاکستان: فرام سائفر ٹو فائنل کال کتابی شکل میں شائع کیا۔
انہوں نے قومی نصاب کمیٹی تشکیل دی، تعلیمی اصلاحات پر کام کیا،علمی و فکری حلقوں سے حکومتی رابطے مضبوط کیے۔
بعد ازاں انہیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سینیٹ آف پاکستان کا رکن (سینیٹر) منتخب کیا گیا۔
بطور سینیٹر وہ قومی قانون سازی، نصاب سازی اور سماجی پالیسی سے متعلق امور پر فعال ہیں۔ اُن کی خِدمات کے لئے اُنہیں پاکستان کا اعلٰی سویلین اعزاز ہلال امتیاز بھی دیا گیا۔




