مظفرآبادف(کشمیر ڈیجیٹل)محکمہ ہائیر ایجوکیشن آزادکشمیر میں ایک بار پھر ایڈہاک ازم کو فروغ دیکر سیاسی بنیادوں پر لیکچررز کی بھرتیاں،بڑے پیمابے پر جعلسازی کا انکشاف۔۔
تحریری امتحانات میں کامیاب امیدواران کی میرٹ لسٹوں میں شامل امیدواران کے بجائے فیل امیدواران کی فائنل میرٹ لسٹ تیار کرلی۔
بڑے پیمانے پربے ضابطگیوں نے محکمہ ہائیر ایجوکیشن کی قلعی کھول دی، ایڈہاک تقرریاں سیاسی بنیادوں پرکرکے میرٹ کے دعوے کھوکھلے رہ گئے۔
میرٹ اینڈ ریفارمز موومنٹ اور اینٹی ایڈہاک ازم موومنٹ نے وزیر اعظم آزاد جموں کشمیر سے سیاسی بنیادوں پر کیجانی والی جعلی تقرریوں کا فوری نوٹس لیکر ہائی کورٹ کا شفاف کمیشن تشکیل دیئے جانے کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے زیر اہتمام 341 لیکچررز کی اسامیوں پر سیاسی اور سفارشی بنیادوں پر ایڈہاک تقرریوں میں بھی بڑے پیمانے پر جعلسازی کا انکشاف ہوا،
میرٹ لسٹوں میں وہ امیدوار بھی شامل کردیئے گئے جو تحریری امتحان میں شامل نہ تھے،جس کے بعد شفاف میرٹ اور گڈ گورنننس کی قلعی کھل گئی۔۔
میرٹ کے نفاذ کی نمائندہ تنظیموں کے عہدیداران نے ایڈہاک ازم کے فروغ کو مسترد کردیا
پبلک سروس کمیشن کی مکمل فعالی اور ٹیسٹ انٹرویوز کے فوری انعقاد کیلئے ریاست بھر میں پی ایس سی امیدواران کی مشترکہ ایکشن کمیٹی( CAC)تشکیل دیکر ریاست گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کرلیا
،امیدواران پی ایس سی ،میرٹ ریفارمز موومنٹ اور اینٹی ایڈہاک ازم مومنٹ کے رہنمائوں نے پی ایس سی میں۔
بھیجی گئی 380 اسامیوں پر گزشتہ اشتہار کی روشنی میں فوری ٹیسٹ انٹرویوز یقینی بنانے کا مطالبہ کردیا۔۔
میرٹ تنظیموں کے راہنمائوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم۔آزاد جموں کشمیر ایڈہاک تقرریوں کا فوری نوٹس لیکر شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔۔
ایڈہاک ازم۔کے بجائے مستقل تقرریوں کا فروغ بذریعہ پی ایس سی کیا جائے۔آزاد جموں کشمیر میں۔اب ایڈہاک ازم کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔۔
پڑھے لکھے ڈگری ہولڈرز بیرون ملک جانے کو ترجیح دے رہے ہیں،بروقت پی ایس سی کے ذریعے تقرریاں نہ ہونے کے باعث میرٹ ایک خواب بن گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:دہری شہریت یا ملازمت ،سرکاری ملازمین کیلئے نیا آرٹیکل لانے کی تجویز




