پاک افغان وزرائے صحت کا پولیو کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششوں پراتفاق

سعودی وزیر صحت فہد الجلاجل کی موجودگی میں بدھ کو ریاض میں پاکستان کے وزیر صحت مصطفی کمال اور افغان ہم منصب مولوی نور جلال جلالی کی ملاقات ہوئی ہے۔

گلوبل ہیلتھ ایکسپو 2025 کے موقع پر مشترکہ ملاقات میں زیادہ متاثرہ علاقوں میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو مستحکم بنانے پر بات چیت کی گئی۔

صحت عامہ کو فروغ دینے اور انسداد پولیو مہم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

ایس پی اے کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے وزرائے صحت نے میزبانی پر مملکت کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے پولیو کے خامتے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے، ویکنیشین کمپین کےلیے کو آرڈینیشن بڑھانے اور ہائی رسک ایریاز میں ویکسینشن کے حوالے سے آگاہی اقدامات کے حوالے سے اپنے ملکوں کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار پر اسسٹنٹ کمشنر نے والد کو بھی ویکسین پلادی

واضح رہے سعودی عرب نے اس سال پولیو کے خاتمے کے لیے دو معاہدوں پر دستخط کیے جن کے تحت 500 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ کے فنڈز دئیے گئے جس کے ذریعے 370 ملین بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھا جاسکے گا۔

پہلے معاہدے کے تحت 300 ملین امریکی ڈالر کی امداد عالمی ادارہ صحت کو دی گئی تاکہ ان ممالک میں جہاں پولیو کے خاتمے کی کوششیں جاری ہیں وہاں اس مرض کے خاتمے کے لیے ویکیسن پروگرام پرعمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

دوسرے معاہدے کے تحت 200 ملین ڈالر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ’یونیسیف‘ کو فراہم کی گئی تاکہ پولیو کےخطرے سے دوچار ملکوں میں کی جانے والی کوششوں کو تقویت دی جاسکے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں جتنے بھی پولیو کیسز سامنے آرہے وہ افغانستان سے آرہے ہیں کیونکہ افغانستان میں پولیو ویکسی نیشن کا کوئی پروگرام نہیں چل رہا ہےجس سے وائرس پھیل رہا۔

Scroll to Top