اسلام آباد:آزاد کشمیر کے سابق وزیرِاعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سردار تنویر الیاس نے کہا ہے کہ آزادکشمیر میں ان ہائوس تبدیلی کے موقع پر مسلم لیگ ن ہمیں ووٹ دیگی لیکن کابینہ میں شامل نہیں ہوگی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سردار تنویر الیاس نے کہا کہپیپلز پارٹی اس کوشش میں ہے کہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کرے تاکہ خطے کا جمہوری نظام ڈی ریل نہ ہو ۔
سردار تنویر الیاس خان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی اس وقت حکومت سازی کے عمل میں کردار ادا نہ کرے تو موجودہ حکومت کے گرنے اور اسمبلی کے تحلیل ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے ۔
ان کے مطابق پارٹی کی ترجیح یہ ہے کہ سیاسی عمل کو جاری رکھا جائے اور اسمبلی کو قبل از وقت تحلیل ہونے سے بچایا جائے ۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر اسمبلی،10وزراء کی شمولیت، پیپلزپارٹی نے سادہ اکثریت حاصل کر لی
انہوں نے کہا کہ اس وقت آزاد کشمیر میں سات سے آٹھ آئینی عہدے خالی ہیں، جن پر تقرریاں ناگزیر ہیں تاکہ انتظامی امور متاثر نہ ہوں، دوسری جانب خطے میں پولیس، ڈاکٹرز اور عام شہریوں کی ہڑتالیں جاری ہیں، جنہوں نے حکومت کی کارکردگی اور عوامی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ۔
سردار تنویر الیاس نے انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی کو بتایا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آئندہ حکومت کے قیام کے لیے پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے پر آمادہ ہے، تاہم وہ کابینہ میں شمولیت یا وزارتیں لینے سے گریز کرے گی ۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں آئندہ وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری حتمی فیصلہ کریں گےاور پارٹی کی تمام قیادت اس فیصلے پر متفق ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی جمہوری تسلسل کو برقرار رکھنے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ۔
یاد رہے کہ پیپلزپارٹی نے آزادکشمیر میں حکومت سازی کیلئے 27ممبران شو کر دیئے ہیں۔




