استنبول : ترکیہ کی نیو رفاہ پارٹی کے رہنما ڈاکٹر فاتح اربکان نے جماعت اسلامی آزاد کشمیر سابق امیر عبدالرشید ترابی کی قیادت میں کشمیری وفد کو یقین دلایا ہے کہ اپنے والد پروفیسر ڈاکٹر نجم الدین اربکان کے مشن کی روح کے مطابق ترکیہ میں کشمیریوں کی حمایت کو فروغ دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی برحق جدوجہد کی حمایت عالم اسلام اور بین الاقوامی برادری دونوں کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فلسطین اور کشمیر جیسے مسائل استعماری پیدا کردہ پیچیدگیاں ہیں جن کے حل کے بغیر عالمی امن ممکن نہیں۔
ڈاکٹر فاتح اربکان نے کہا کہ ان کی پارٹی اور ذاتی سطح پر وہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور اس سلسلے میں متعلقہ فورمز پر آواز اٹھائیں گے ۔
عبدالرشید ترابی نے ایک وفد کے ہمراہ نیو رفاہ پارٹی کے کنونشن میں شرکت کی اور ڈاکٹر فاتح اربکان سے ملاقات کی وفد میں کشمیری راہنما نذیر قریشی شامل تھے ۔
وفد نے ڈاکٹر فاتح اربکان کو کشمیر کی تازہ ترین صورت حال، بھارتی مظالم، اور موجودہ سیاسی و عسکری حالات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: دوحہ مذاکرات میں قطر اور ترکیہ کی ثالثی،پاکستان اور افغانستان میں جنگ بندی پر اتفاق
انہیں بتایا گیا کہ کشمیریوں کے خلاف جاری مظالم نہ صرف ایک علاقائی مسئلہ ہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی اور اخلاقی ضمیر سے جڑے ہوئے ہیں جن کا حل عالمی سطح پر توجہ کا متقاضی ہے۔
فلسطین و کشمیر میں مشترکہ حکمتِ عملی اور بین الاقوامی تعاونوفد نے ناظرین کو بتایا کہ فلسطین اور کشمیر کے مسائل امریکی و یورپی اور خطے کی سیاسی پیچیدگیوں کے باعث الجھے ہوئے ہیں اور بعض حالات میں بھارت اور اسرائیل کی مشترکہ یا ہم آہنگ حکمتِ عملی کی طرف اشارہ کیا گیا جس پر تشویش ظاہر کی گئی۔
وفد نے عالمی برادری خصوصا مسلم امہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین اور کشمیر میں جاری انسانی بحران کی یکساں اور موثر توجہ دی ملاقات میں پاک و بھارت حالیہ کشیدگی کا ذکر بھی کیا گیا اور بتایا گیا کہ کچھ عالمی و علاقائی قوتیں کس طرح اپنی پالیسیوں کے ذریعے معاملات کو متاثر کر رہی ہیں۔
وفد نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے دفاعی اور سکیورٹی کوششیں اور حالیہ تنازعات میں قوم کی حوصلہ افزائی قابلِ ستائش ہیں۔
عبدالرشید ترابی کی طرف سے ڈاکٹر فاتح اربکان سے یہ پرزور درخواست کی گئی کہ وہ اپنے عظیم والد کی سیاست اور اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنی پارٹی اور قومی سطح پر اہلِ کشمیر اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کے لیے نمایاں آواز اٹھائیں۔
کنونشن میں خارجہ امور کے ڈائریکٹر برادر دوگان، پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ اور دیگر رہنماں سے بھی اہم ملاقاتیں کی گئیں جن میں کشمیری مسئلے کی بین الاقوامی نوعیت اور ترکیہ کے کردار پر مفید تبادلہ خیال ہوا۔




