وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی (فوسپاہ) نے زچگی کی چھٹی کے دوران خاتون کو نوکری سے نکالنا صنفی امتیاز قرار دے دیا۔
فوسپاہ نے زچگی کی چھٹی کے دوران خاتون کو نوکری سے نکالنے پرنجی کمپنی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کو ملازمت پر بحال کرنے کی ہدایت کردی۔
جرمانے کی رقم میں سے 8 لاکھ خاتون کو دینے جب کہ 2 لاکھ قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی فوزیہ وقار نے خاتون کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ماں بننا کسی عورت کے کریئر کے لیے رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے، زچگی کے دوران نوکری کا تحفظ ہر عورت کا بنیادی حق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیس بک کا نیا فیچر،صارفین کیلئے نوکری کی تلاش اور بھی آسان کردی
نجی کمپنی نے 20 جولائی 2022 کو خاتون کو ایچ آر منیجر کے عہدے پر تعینات کیا تھا، ان کی زچگی کے لیے چھٹی 8 مارچ 2024 کومنظور کی گئی جو 14 مارچ سے 14 جون 2024 تک کے لیے تھی۔
خاتون کو اسی دوران 24 اپریل 2024 کو برطرفی کا نوٹس ملا اور ملازمت سے برخاست کردیا گیا جس پر انہوں نے فوسپاہ سے رجوع کیا۔
فوسپاہ نے تمام اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ خواتین کے آئینی و قانونی حقوق کا مکمل احترام کریں اور انہیں ایک محفوظ، باعزت اور سازگار ماحول فراہم کریں، جہاں انہیں زچگی، رخصت، تنخواہ، عزت اور مساوی مواقع میسر ہوں۔




