ڈاکٹر پیر علی رضا بخاری سے ترک ماہرین تعلیم کی خصوصی ملاقات ، تعلیمی شعبوں میں تعاون پر غور

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)ترک ماہرینِ تعلیم اور سماجی شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اپنے پاکستان کے دورے کے دوران ڈاکٹر پیر علی رضا بخاری، سجادہ نشین درگاہ بساہاں شریف آزادکشمیر اور سابق رکنِ اسمبلی سے ملاقات کی۔

وفد کی قیادت پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم اردگان، صدر ترکیہ وولنٹیئر ایسوسی ایشن آف ایجوکیشن نے کی۔ ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ محترمہ گلزار اردگان بھی تھیں۔

وفد میں شامل دیگر نمایاں ارکان میں محترمہ فاطمہ (وزارتِ دیانت، حکومتِ ترکیہ)، محترمہ سراب (ٹیچر / سوشل ایکسپرٹ)، محترمہ رابعہ (رضاکار کارکن)، محترمہ صادیہ (ترکی زبان کی استاد اور سماجی ماہر)، اور محترمہ اُلکر موروَل (سماجی کارکن) شامل تھیں۔

سیف الاسلام، صدر ترک المنی ایسوسی ایشن آف پاکستان ، انس خان اور وقاص بشیر، ٹیکا (ترکش کوآپریشن اینڈ کوآرڈی نیشن ایجنسی) کے پراجیکٹ مینیجرز نے وفد کی معاونت اور ترکی زبان کی ترجمانی کی۔

اس موقع پر بی بی جی صاحبہ (اہلیہ محترمہ پیر علی رضا)، چیئرپرسن مینٹور یو اسکول سسٹم اسلام آباد؛ ڈاکٹر خالد خان، مشیرِ تعلیم برائے ڈاکٹر پیر علی رضا بخاری؛ سید آفتاب حسین شاہ، چیف ایگزیکٹو ہمالین کنزرویشن رورل سپورٹ پروگرام (HCRSP)؛ علامہ محمد حسن رضا، چیئرمین رضا اسلام آباد کالج؛ صاحبزادہ سید مہدی بخاری؛ سمیت دیگر معزز مہمان بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بات چیت ہوئی ،ہیومن ویلفیئر اینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (HWDO) اور رضا فاؤنڈیشن کی جانب سے شراکت داری کیلئے ایک تصوراتی دستاویز (Concept Paper) بھی پیش کی گئی، جس میں تعلیمی، سماجی اور ثقافتی تعاون کے متعدد منصوبوں کی نشاندہی کی گئی۔

اس موقع پر تعاون کے مجوزہ اہم شعبے درج ذیل تھے:
• تعلیم: طلبہ کے تبادلے، سکالرشپ اور مشترکہ تحقیقی پروگرام۔
• کاروبار و تجارت: حلال صنعتوں، سیاحت اور ٹیکنالوجی میں شراکت داری۔
• زبان و ثقافت: ترکی اور اردو زبان کی ترویج، ثقافتی پروگرام اور نمائشوں کا انعقاد۔
• روحانی و تاریخی تعلقات: صوفی اور عثمانی ورثے کی مشترکہ تقریبات۔

مزید برآں، کتاب پیغامِ پاکستان اور تعلمیات سیفیہ ( انگلش) وفد کے سربراہ کو پیش کی گئی، جبکہ ڈاکٹر پیر علی رضا بخاری نے وفد کو گل دستہ بھی پیش کیا تاکہ ان کی آمد پر شکریہ اور احترام کا اظہار کیا جا سکے۔

ملاقات خیرسگالی، باہمی محبت اور تعاون کے عزم پر اختتام پذیر ہوئی، جس کا مقصد ترکیہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور دونوں برادر ممالک کے درمیان محبت، علم اور ترقی کا پُل قائم کرنا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:غیر ریاستی باشندوں کا اندراج ، کمشنر میرپور ڈویژن نے بڑا اقدام اٹھا لیا، بڑا حکم جاری

Scroll to Top