سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی کشمیری دانشور عبدالغنی بھٹ کی وفات پر تعزیت،خراج تحسین پیش

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سابق وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس خان نے ممتاز کشمیری دانشور، محقق اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سینئر رہنما پروفیسر عبدالغنی بھٹ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی ریاستی جبر کی شدید مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پروفیسر بھٹ کی نمازِ جنازہ میں کشمیری رہنماؤں اور عوام کو شریک ہونے سے روکنا انسانی اور مذہبی آزادیوں پر بدترین قدغن ہے۔

لاکھوں کشمیری عوام کو بزورِ طاقت آخری دیدار اور جنازے میں شرکت سے روک کر بھارت نے ایک بار پھر اپنا جابرانہ اور غیر انسانی چہرہ دنیا کے سامنے آشکار کر دیا ہے۔ سردار تنویر الیاس خان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ پروفیسر عبدالغنی بھٹ صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ وہ ایک صاحبِ علم، صاحبِ فکر شخصیت اور کشمیری عوام کے حقیقی ترجمان تھے۔

ان کی علمی بصیرت، عالمانہ گفتگو اور مسئلہ کشمیر کے پرامن اور باوقار حل کے لیے ان کی کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وہ کشمیری قوم کے فکری سرمایہ اور حریت قیادت کے علمی ستون تھے جن کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جاتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ پروفیسر عبدالغنی بھٹ نے اپنی پوری زندگی جدوجہدِ آزادی اور کشمیری عوام کے حقوق کی بازیابی کے لیے وقف کر دی۔ وہ نہ صرف ایک حریت رہنما تھے بلکہ ایک استاد، محقق اور ایسے دانشور بھی تھے جنہوں نے ہمیشہ دلیل اور استدلال کے ذریعے کشمیریوں کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھا۔۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ پروفیسر بھٹ کی رحلت سے تحریکِ آزادی ایک عظیم رہنما اور دانشور سے محروم ہو گئی ہے، ان کی فکری رہنمائی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے مرحوم کے اہلِ خانہ اور حریت قیادت سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاک ،سعودیہ دفاعی معاہدہ ، آزادکشمیر بھر میں یوم تشکر منایا گیا،شہر شہر ریلیاں

Scroll to Top