کشمیری سیاستدانوں کے سیلاب متاثرہ خیبرپختونخوا کے سیرسپاٹے، عوام کا شدید ردعمل سامنے آگیا

مظفرآباد(ذوالفقار علی +کشمیر انوسٹی گیشن ٹیم )آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں سپیکر کی سربراہی میں تشکیل دی گئی متنازعہ’’خصوصی کمیٹی‘‘ نے بارشوں سے بری طرح متاثر ہونیوالے صوبے خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور کا تفریح دورہ کیا۔

جس پر تنازعہ کھڑا ہوگیا ۔ اس تنازعے کی وجہ یہ ہے کہ اس کمیٹی نے پشاور کا دورہ ایک ایسے وقت پر کیا جب خیبر پختونخواہ قدرتی آفت سے شدید متاثر ہے۔

آزاد کشمیر کے ایک سیاسی رہنما نے اس دورے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ” یہ بہتر نہ ہوتا کہ آزاد کشمیر کے منتخب نمائندے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے، جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے، بے گھر افراد کے کیمپس میں امداد فراہم کرتے یا کم از کم اپنی ایک ماہ کی پوری یا آدھی تنخواہ خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے متاثرین کیلئے مختص کر دیتے؟

انہوں نے یاد دلایا کہ جب 2005 میں آزاد کشمیر زلزلے سے تباہ ہوا تھا، تو پورا پاکستان بلا تفریق امداد لے کر زلزلے سے متاثر ہونے والے علاقوں میں پہنچ گیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ” آج جب خیبر پختونخواہ اور پنجاب کو ہماری ضرورت ہے تو آزاد کشمیر کی سیاسی اشرافیہ وہاں “مہمان” بن کر گئی ۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخواہ اس وقت بدترین موسمی تباہی کا شکار ہے۔ سر کاری اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں 500 سے زیادہ افراد جاںبحق ہوچکے ہیں جبکہ 200 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔

خیبر پختونخواہ کی حکومت کے مطابق کوئی 06 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں ، لگ بھگ 77 ہزار مکانات تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔

اسی طرح سے مقامی حکومت کے مطابق 13 ہزار سے زیادی مالی مویشی ہلاک ہوگئے، 97 ہزار ایکٹر قابل کاشت زمین متاثر ہوئی جسکے نتیجے میں 60 ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں۔

مقامی حکومت کے مطابق 91 اسکول مکمل طور پر تباہ ہوئے، لگ بھگ 11 سو اسکول متاثر ہوئے اور 90 سے زیادہ صحت کی سہولیات کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ حکومت کے مطابق 1455 کلومیٹر سٹرکیں متاثر ہوئین اور 70 سے زیادہ پل تباہ ہوئے یا ان کو نقصان پہنچا۔

خیبر پختونخوا کی حکومت کا کہنا ہے کہ امدادی سرگرمیوں، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور نقصانات کے ازالے پر 68 ارب روپے لاگت آئے گی۔

ناقدین کہتے ہیں کہ ایسے حالات میں جب مقامی حکومت متاثرین کی بحالی اور امداد کے لیے دن رات کوشاں ہے، آزاد کشمیر کی خصوصی کمیٹی کا دورہ اگر صرف “سیر و تفریح” یا سیاسی ملاقاتوں تک محدود ہے، تو یہ نہ صرف غیر حساس رویہ ہے بلکہ متاثرہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف بھی ہے۔”

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 78 سال بعد آزاد کشمیر کی اسمبلی میں پہلی مرتبہ اسپیکر کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکل دی جس نے خود کو یہ کام سونپا کہ یہ کشمیریوں کے لئے رائے شماری کے حصول اور مسلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر مرثر طریقے سے اجاگر کرنے کیلئے تجاویز مرتب کرے گی ۔

اس کمیٹی کے قیام پر ناقدین نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کمیٹی کامقصد سیر سپاٹوں اور ذہنی عیاشی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک ایسی اسمبلی جو ہمیشہ کشمیر کی صورتحال سے لاتعلق رہی ہے اور کشمیریوں کے مصائب کو اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کیلئے استعمال کیا ہو وہ مسئلہ کشمیر کے حل یا اس کو اجاگر کرنے کیلئے کیا تجاوز دے سکتی ہے؟

وہ کہتے ہیں وادی کے کشمیویوں کے مصائب کو استعمال کرکے دورہ کیا اور دورے کے لیے اس خطے کا انتخاب کیا ہے جہاں کے لوگوں کو سیلاب کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاسی اشرافیہ کا دورہ پشاور یہ تلخ حقیقت بے نقاب ہوئی ہے کہ اس کمیٹی کا کشمیر کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس کمیٹی کو کشمیریوں کے مصائب کا احساس ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اپنے دوروں، سیاسی و مالی مفادات کیلئے کشمیر کا نام استعمال کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کو کشمیریوں کے حالت زار کا کبھی کوئی احساس ہوتا تو یہ 78 سال بعد کمیٹی نہ بناتے۔

ان کے مطابق 78 سال بعد ایسی کمیٹی تشکیل دینا ہی اس بات کا ظاہر کرتا ہے کہ یہ کمیتی انہوں نے اپنے مفادات کے تحفظ اور سیر سپاٹوں کیلئے بنائی ہے۔

وہ یہ کہتے ہیں ان کے متنازعہ کردار کی وجہ سے ہی دونوں طرف کے کشمیری ان پر ایک لمحے بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سیاست دانوں کو ایسے متنازعہ کمیٹی سے دور رہنا چاہیے تاکہ ان کی ساکھ متاثر نہ ہو۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف سیر سپاٹے کے لیے کشمیر کا نام استعمال کیا جارہا ہے اور دوسری طرف سیر سپاٹے کے لیے ایک ایسے خطے کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں دسیوں ہزا لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گذار رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے سیر و تفریح کے بجائے آزاد کشمیر کی سیاسی اشرافیہ ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا نہ کہ مہمان بن کر تصاویریں کھنچواتے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا قطر میں فضائی حملہ، حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ شہید ہوگئے

Scroll to Top