ہٹیاں بالا (کشمیر ڈیجیٹل نیوز)دو ماہ کی فیس کی عدم ادائیگی کے باعث والدین اپنے اکلوتے بیٹے اور آٹھویں جماعت کے طالبعلم سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔
آٹھویں جماعت کے طالب علم قاسم وحید شیخ کے والد عبد الوحید ، تایا عبد المجید ، عبدالحمید ، چاچا ظہیر احمد ، منظور احمد ، راشد عزیز و دیگر نے ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ریڈ فاؤنڈیشن سکول گوجر بانڈی کی معلمہ صائمہ دختر زاہد اعوان کے ناروا سلوک اور تحقیر آمیز رویے نے ہمارے معصوم بچے کی زندگی کا چراغ گل کر دیا ،،

ورثاء کے مطابق محض دو ماہ کی فیس کے عوض بچے کی عزت نفس مجروح کی گئی، اس کے بال کھینچے گئے، تپتی دھوپ میں پانچ گھنٹے کھڑا کیا گیا اور سب کے سامنے ذلیل و رسوا کیا گیا۔
بچوں کے سامنے معلمہ صائمہ کے ہاتھوں ٹارچر اور تضحیک کے بعد بچے نے دل برداشتہ ہو کر دریائے جہلم میں چھلانگ لگاکر ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہو گیا ۔آج ہم آٹھ دن سے بچے کی لاش تلاش کررہے ہیں ، ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔۔
وزیر اعظم کی جانب سے اس واقعہ پر بنائی گئی کمیٹی نے سات دن میں رپورٹ دینا تھی آج آٹھ دن ہوگئے ہیں کوئی معلومات نہیں دی گئیں ۔ غم سے نڈھال بچے کے والد اور تایا نے کہا کہ “ہمارے گھر میں قیامت برپا ہے، آٹھ دن گزر گئے لیکن ہم ابھی تک اپنے لختِ جگر کی لاش کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں۔
انتظامیہ بھی تعاون نہیں کررہی ، ہماری فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ورثاء نے مزید بتایا کہ صبح آٹھ بجے ہشاش بشاش حالت میں بچہ سکول گیا ، چھٹیوں کی دو ماہ کی فیس بقایا تھی۔
بچے کی والدہ کو صائمہ کی جانب سے فون کیا گیا جس پر والدہ نے معلمہ صائمہ کو فون پر فیس کی ادائیگی کی یقین دہانی کروائی اور گزارش کی تھی کہ بچے کو فیس مانگ کر شرمندہ نہ کیا جائے۔۔
لیکن اس کے باوجود صائمہ زاہد اعوان نے نہ صرف بچے کو بار بار ہراساں کیا بلکہ اس کی عزت نفس کو دیگر بچوں کے سامنے بری طرح کچلا کہ وہ زندگی سے ہی مایوس ہو گیا۔
اہل خانہ نے الزام لگایا کہ ریڈ فاؤنڈیشن سکول کی پرنسپل ثمینہ اور اس کی بھتیجی صائمہ معطل ہونے کے باوجود سکول جارہی ہیں اور ادارے کے ذمہ داران ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ورثاء نے پولیس پر بھی سوال اٹھائے کہ کوٹلہ پل پرپولیس اہلکار تعینات ہونے کے باوجود کسی نے نہیں پوچھا کہ بستہ اٹھائے ایک معصوم بچہ پل پر کیا کر رہا ہے؟
پولیس اہلکاروں کو پوچھنا چاہیے کہ بستہ اٹھائے بچہ پل پر کیا کررہا ہے ، کہاں جارہا ہے ؟ ماضی میں بھی اسی پل سے خودکشیاں ہوچکی ہیں ، لیکن متعلقہ اداروں نے کبھی کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا۔
متاثرہ خاندان نے وزیر اعظم آزاد کشمیر اور محکمہ تعلیم سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کی جائے، اور صائمہ دختر زاہد اعوان کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے تاکہ وہ نشان عبرت بنے۔
ورثاء کا کہنا ہے کہ ہمیں پرنسپل یا ادارہ سے غرض نہیں، ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ ہمارے اکلوتے بیٹے کی جان لینے والی معلمہ صائمہ کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آج اس ظالمانہ رویے پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل نہ جانے کتنے معصوم بچوں کی زندگیاں اس بے حسی اور تحقیر کی بھینٹ چڑھ جائیں گی۔
حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر سخت ایکشن لیتے ہوئے ایسے عناصر کو قانون کی گرفت میں لائے اور پورے تعلیمی نظام کو اس تلخ حقیقت سے محفوظ بنائے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ریڈفائونڈیشن کے طالبعلم کے چھلانگ واقعہ کی تحقیقات، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل




