سرکاری دوروں پر پابندی کے باجود آزادکشمیر کی سیاسی اشرافیہ بیرون ممالک اُڑان کیلئے بے قرار

مظفرآباد(ذوالفقار علی+کشمیر انوسٹی گیشن ٹیم )آزاد کشمیر کے محکمہ مالیات نے بیرونِ ملک سرکاری دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ آزاد کشمیر کے محکمہ مالیات کے ایک حکمنامے میں کہا گیا ہے ” رواں مالی سال میں بیرون ممالک سرکاری دوروں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔


” یہ پہلا موقع ہے کہ آزاد کشمیر کی کسی حکومت نے ایسا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پابندی ایسے وقت میں لگائی گئی ہے جب عوام اور سیاسی تجزیہ کار آزاد کشمیر کی سیاسی اشرافیہ کے غیر ملکی دوروں پر شدید تنقید کر رہے تھے۔

اس پابندی کے درمیان یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ آزاد کشمیر کے اسمبلی میں موجود بعض سیاست دان “مسلہ کشمیر” کے نام پر بیرون ممالک دورے کے لیے منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے کہ تو یہ آزاد کشمیر کی حکومت کی طرف سے لگائی جانے والے پابندی کی کھلم کھلا حلاف ورزی ہوگی۔

وادی کشمیر میں سنہ 1988 میں مسلح تحریک کی آغاز کے بعد سے آزاد کشمیر کے وزرائے اعظم، صدور، وزرا، اراکینِ اسمبلی اور اعلیٰ حکام کے لیے مسلہ کشمیر کے نام پر غیر ملکی دورے ایک معمول بن چکے تھے۔

وہ 90 اور 2000 کی دہائی میں کثرت سے بیروں ممالک کے دورے کرتے رہے ۔ آزاد کشمیر کے بعض صدور اور وزرائے اعظم سال میں اکثر بیرونِ ممالک دوروں پر ہوتے تھے۔
عام طور پر آزاد کشمیر کی سیاسی اشرافیہ ان دوروں کے تین مقاصد بتاتے رہے:

مطالعہ، مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا، اور علاج معالجہ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ کوئی مطالعہ سامنے آیا، نہ مسئلہ کشمیر کے ضمن میں کوئی رپورٹ منظر عام پر آئی اور نہ ہی ان دوروں کا کوئی نتیجہ سامنے آیا۔اس خطے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ دورے سیر و تفریح کے لیے کئے جاتے رہے ہیں۔

ان دوروں پر خرچ ہونے والی بڑی رقوم پاکستان کے عوام کے ٹیکس سے ادا کی جاتی رہیں، مگر پاکستان یا کشمیری عوام کو کبھی یہ نہیں بتایا گیا کہ ان دوروں سے کیا حاصل ہوا اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ ان دوروں کے دوران ان کی کیا مصروفیات ہوتی تھیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب اس خطے میں غریب عوام روٹی، پانی،علاج اور روزگار کے لیے پریشان ہیں تو آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی اشرافیہ عوام کی ٹیکسوں پر دنیا گھومنے میں مصروف رہی۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر سیاسی اور انتظامی اشرافیہ یہ سب اپنا “حق” سمجھتی رہی اور اس کا کبھی کوئی احستاب نہیں ہوا اور نہ ہی روک ٹوک۔

آزاد کشمیر اسمبلی کی ایک سابق رکن نے کے آئی ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ یہ دورے مسلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے نہیں بلکہ سیروتفریح کے لئے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ آزاد کشمیر اسمبلی کے اراکینِ کا ایک وفد 10 روزہ دورے پر امریکہ گئے جس کا وہ بھی حصہ تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دوران صرف اقوامِ متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ برائے انڈیا و پاکستان کے ایک عہدیدار سے ملاقات ہوئی، اور باقی سارا وقت امریکہ میں سیر و تفریح اور دعوتوں میں گزرا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کے پاس لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی کوئی تفصیلات موجود تھیں، تو ان کا جواب تھا کہ ان کے پاس ایسی کوئی معلومات موجود نہیں تھیں۔

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ نے ایک ایسے ادارے کے عہدیدار سے ملاقات کی جو لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی خلاف ورزیوں کے تمام واقعات ریکارڈ کرتا ہے اور اس کے پاس تمام معلومات موجود ہوتی ہیں، تو ان کو کیا تاثر ملا ہوگا کہ جن لوگوں کی نمائندگی کا دعوی آپ کرتے ہیں، آپ کو ان کے مسائل اور حالات کا علم ہی نہیں؟

انہوں نے کہا کہ یہ دورے صرف سیر و تفریح کے لیے ہوتے ہیں، عوام کی تکالیف کو اجاگر کرنے کے لیے نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان دوروں کے لیے صرف مسلہ کشمیر کا نام استعمال ہوتا ہے۔

ان دوروں کے مقاصد کا اندازہ اس بات بھی لگایا جاسکتا ہے کہ حال ہی میں آزاد کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کی قیادت میں وزرا اور اراکینِ اسمبلی پر مشتمل ایک وفد امریکہ کے دورے پر جانا چاہتا تھا، جسے مطالعیاتی دورہ کا نام دیا گیا تھا۔ لیکن جب اس پر شدید تنقید ہوئی تو یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا۔ اس سے پہلے وزرا اور اراکین پر مشتمل ایک وفد نے ترکی اور کرغستان کا دورہ بھی کیا گیا تھا۔

جب دورہ شروع ہونے سے پہلے اس پر تقید کی گئی تو کہا گیا کہ یہ دورہ مسلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے کیا جارہا ہے ۔ دورے سے واپسی پر ان اراکیں اسمبلی نی کہا کہ جن کو وہ مسلہ کشمیر کے بارے میں آگاہی دینا چاپتے تھے وہ صورت حال کے بارے میں ان سے زیادہ واقفیت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے اس بیان میں ہی خود واضح کیا کہ ان کو کشمیر کی صورت حال سے کتنی دلچسپی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ دورہ واقعی مسلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے کیا گیا تھا یا پھر کشمیریوں کو گمراہ کیا گیا؟

مئی 2024 میں آزاد کشمیر میں چار روز جاری رہنے والی عوامی تحریک کی اختتام کے چند گھنٹے بعد آزاد کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کے دفتر میں وزرا اور اراکین کی بیٹھک ہوئی۔ اس میں ایک وزیر نے واضح طور پر کہا کہ حکومت تمام اراکین اور وزرا کو سیر و تفریح کے لیے بیرونِ ملک بھیج رہی ہے۔ ترکی اور کرغستان کا دورہ اسی منصوبے کا حصہ تھا، اور امریکہ کا دورہ بھی اسی فیصلے کی روشنی میں کیا جارہا تھا جو تنقید کے بعد منسوخ ہوا۔

آزاد کشمیر کی سیاسی اشرافیہ بیروں مملک دوروں کے لیے اتنے بی قرار ہیں کہ اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نومبر 2024 میں جب پاکستان کی پارلیمنٹ میں کشمیر پر خصوصی کمیٹی کے وفد نے کمیٹی کے سربراہ رانا قاسم نون کی سبراہی میں مظفرآباد کا دورہ کیا تو آزاد کشمیر کے بعض سیاست دانوں نے ان کے سامنے بھی یہی مطالبہ رکھا کہ ان کو ان کو مسلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لیے بیرون ممالک دوروں پر بھیجا جائے۔ اس طرح سے دسمبر 2024 میں اسلام آباد میں ہونے والی سپیکرز کانفرنس میں بھی آزاد کشمیر کے سپیکر نے یہ مطالبہ کیا کہ ان کو بیرون ممالک دوروں پر بھیجا جائے۔

اس صورت حال پر ایک اعلی عہدیدار نے طنزیہ طور پر کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس انتظار میں ہیں کہ آزاد کشمیر کے سیاست دانوں سے کب ملاقات ہوگی تاکہ مسلہ کشمیر کا حل نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ نہ جاسکتے تو مسلہ کشمیر کا کیا ہوگا؟

ایک تجزیہ کار نے اس صوت حال پر یوں تبصرہ کیا” سوچیں ذرا! لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بہت خون بہہ گیا لیکن آزاد کشمیر کے سیاست دانوں کے لیے ان لاشوں کی صرف یہ اہمیت ہو کہ وہ ان کو اپنی قیمتی گاڑی، مراعات اور بیرون ممالک دوروں کے لیے استعمال کریں۔” انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ لوگ آپ کو کسی طرح بھی کسی قوم کے نمائندے نظر آتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ان پر تبصرہ کرنا بے سود ہے۔

آزاد کشمیری کی سیاسی اشرافیہ کی بیرون ممالک دوروں کے لیے بے قراری کے عالم میں حکومت کا بیرونِ ملک سرکاری دوروں پر مکمل پابندی لگانا بظاہر ایک مثبت قدم ہے۔ اس فیصلے کو عوامی سطح پر سراہا بھی گیا ہے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ فیصلہ واقعی خلوص سے کیا گیا ہے، یا صرف وقتی دباؤ کا نتیجہ ہے؟ ماضی کی روش اور طرزِ حکمرانی کو دیکھتے ہوئے لوگ مطمئن نہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:محنت کشوں کیلئے میرج گرانٹ 6 لاکھ ، ڈیتھ گرانٹ دس لاکھ روپے منظور ، ورکرز فیڈریشن کا اظہار تشکر

Scroll to Top