مظفرآباد(ذوالفقار علی +کشمیر انوسٹی گیشن ٹیم )
ایک بار پھر وہی خبر گردش میں ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی کے کچھ معزز ارکان پر مشتمل ایک وفد کو بیرونِ ملک بھیجا جائے تاکہ وہ دنیا کو مسئلہ کشمیر پر “آگاہ” کر سکیں۔ وہی پرانی تجویز، وہی پرانے چہرے، اور وہی پرانی نیت — کہ بس کسی بہانے کوئی دورہ ہو جائے، کوئی ویزا مل جائے، اور کشمیر کے نام پر ایک خوشگوار سفر مکمل ہو جائے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ کشمیر کے لئے ان سیاست دانوں میں اسی وقت جزبہ پیدا ہوتا ہے— جب کوئی بیرونِ ملک دورہ ممکن نظر آئے۔یہ وہی سیاستدان ہیں جو 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت کے ہاتھوں کشمیری عوام کے بنیادی حقوق چھین لیے جانے پر مکمل خاموش رہے۔
جب بھارت نے طاقت کے زور پر مقبوضہ کشمیر کو ضم کیا، ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا گیا، نو ماہ تک ایک چھوٹی سی آبادی کو فوجی محاصرے میں رکھا گیا، انٹرنیٹ اور فون سروس بند کر کے وادیٔ کشمیر کو زندہ انسانوں کا قبرستان بنا دیا گیا، نسل کشی کا خطرہ منڈلا رہا تھا، وادیٔ کشمیر میں قبرستان جیسی خاموشی چھائی ہوئی تھی، اور صرف ایک آواز سنائی دے رہی تھی — فوجی بوٹوں کی۔
مقامی لوگوں کو خبردار کیا گیا کہ اگر انہوں نے گھر سے باہر قدم رکھا تو گولی مار دی جائے گی — اور ایسا ہوا بھی۔ وادی میں دہشت اور خوف کا ماحول پیدا کر دیا گیا۔
عین اسی وقت آزاد کشمیر کی حکومت اور اسمبلی میں بیٹھے ہوئے وہی لوگ سیاہ پردوں میں چھپ کر خاموش رہے۔ نہ کوئی احتجاج کیا گیا، نہ کسی فورم پر آواز اٹھائی گئی، اور نہ ہی کوئی سفارتی مہم چلائی گئی۔ ان کے لیے یہ سب کچھ یوں تھا جیسے ہوا میں اڑنے والا دھواں — جو ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہ تھا۔
اب اچانک وہی حضرات ایک بار پھر کشمیر کے نام پر بیرونِ ملک جانے کے لیے سرگرم ہیں۔ ان کے بیگ میں کوئی تحقیقاتی رپورٹ نہیں، نہ کوئی متاثرہ کشمیریوں کی دستاویزات، ذہن میں کوئی اعداد و شمار نہیں، زبان پر کوئی متاثرہ کشمیری کا نام نہیں ، نہ کوئی قانونی دستاویزات، اور نہ ہی کوئی سنجیدہ سفارتی منصوبہ بندی— بس ہاتھ میں موبائل اور گیلری میں سیلفیز
جب یہ وفود امریک یا یورپ میں کسی سے ملتے ہیں تو میزبان سوچتے ہیں: “اگر کشمیریوں کے نمائندے خود اتنے غیر سنجیدہ ہیں، تو شاید مسئلہ بھی اتنا سنگین نہیں۔” یوں عالمی ہمدردی بدظنی میں بدل جاتی ہے اور وادی کشمیر کے لوگوں کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔ اور قصوروار کون؟ وہی “سفیر” جو کشمیر کے نہیں، سیر کے سفیر بنے بیٹھے ہیں۔
ان “دوروں” کا کوئی آڈٹ نہیں، کوئی رپورٹ نہیں، کوئی نتیجہ نہیں۔ البتہ ایک چیز یقینی ہے: ڈالر خرچ ہوئے، عیاشی پوری ہوئی، اور عوام کو خواب بیچ کر پھر نیا ٹرپ پلان ہو گیا۔
یہ وفود دنیا میں دو ہی باتیں پہنچاتے ہیں
کشمیری خود اپنے حقوق کیلئے سنجیدہ نہیں
کشمیری سیاستدانوں کے نزدیک دسیوں ہزار لوگوں کی قربانیاں ایک ٹورازم پروجیکٹ ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو مظلوم کشمیریوں کی درد بھری چیخوں، پیلٹ گن سے زخمی نوجوانوں کی بینائی، اور لائن آف کنٹرول پر گرتی ہوئی لاشوں کو نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہیں صرف جنیوا، لندن، پیرس، برسلز یا نیویارک کے لگژری ہوٹلوں کا منظر اچھا لگتا ہے، اور وہاں قیام کرنا پسند ہے۔
کیا کشمیریوں کی قربانیاں اتنی سستی ہو گئی ہیں کہ ان کی نمائندگی صرف اور صرف سیاحتی دوروں اور ذاتی خوشیوں کی تکمیل بن گئی ہو؟ کیا بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں خون بہانے والوں کی داد رسی، کشمیری خواتین کی بے حرمتی، اور ہزاروں گرفتار شدگان کے مسائل کو دو چار “سیلفیز” اور شاپنگ کے درمیان ختم کیا جا سکتا ہے؟
اب آزاد کشمیر کا کوئی بھی سیاستدان، خواہ وزیر ہو، مشیر ہو یا پھر رکن اسمبلی کشمیر کے نام پر یرون ملک جانے کی بلکل اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر انہیں واقعی درد ہے، تو آئیں لائن آف کنٹرول کے گاؤں میں جا کر بیٹھیں، شہداء کے گھروں میں فاتحہ پڑھیں، متاثرہ خواتین کے بیانات سنیں، اور رپورٹس تیار کریں۔ لیکن نہیں — ان کا مسئلہ کشمیر نہیں، ان کا مسئلہ کمر کسنے کے لیے نئی جیکٹ، پاسپورٹ پر نیا اسٹیمپ، اور بیرون ملک دورے سے ہے۔
دونوں طرف کے کشمیری اچھی طرح جان چکے ہیں کہ ان “دوروں” کا کوئی جواز باقی نہیں رہا اور یہ دورے کشمیری عوام کے زخموں پر نمک چھٹرکنے کے مترادف ہے۔ یہ عوامی وسائل کا ضیاع کے ساتھ ساتھ سفارتی طور پر کشمریوں کے لیے نقصان دہ عمل ہے۔ بدقسمتی سے ان دوروں پر کوئی نگرانی یا احتساب نہیں ہے۔ نہ کوئی رپورٹ تیار کی جاتی ہے، نہ کوئی بریفنگ دی جاتی ہے، اور نہ ہی کوئی نتیجہ حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ دورے محض سفارتی سیاحت بن چکے ہیں جن کا کشمیری کاز سے کوئی تعلق نہیں۔
اب یہ تماشا بند ہونا چاہیے۔
ان کے گزشتہ تمام دوروں کا مکمل آڈٹ کیا جائے تاکہ پتہ چلے کہ کہاں گئے، کتنے اخراجات ہوئے، اور کیا حاصل ہوا؟ کیونکہ عوامی وسائل کا ضیاع اب لوگوں کی برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔
کشمیر کا مظلوم کشمیری خود لڑ رہے ہیں اور حقائق کو دنیا کے سامنے لا رہے ہیں ۔
کشمیر کوئی تفریحی پراجیکٹ نہیں۔ یہ خون سے لکھی گئی جدوجہد ہے، قربانیوں کا مجموعہ ہے، اور اسے ایسے “سفارتی سیاحوں” کے ہاتھوں رسوا نہیں ہونے دینا چاہیے جو عوام کی قربانیوں کو عیش و عشرت میں بدل کر کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
کاش کوئی ان حضرات سے پوچھے: “صاحب، آپ کس کے نمائندے ہیں؟ اُن شہید بچوں کے، جن کا خون زمین پر بکھرا پڑا ہے؟ یا اُن شاپنگ مالز کے، جن کی رسیدیں آپ اپنی رپورٹوں کی جگہ لے آئے ہیں؟
یہ وقت ہے کہ ہم صاف صاف کہیں
بس بہت ہو چکا! کشمیر کے نام پر مفت کے ٹورز بند کیے جائیں۔ کوئی بھی سیاسی شخصیت جو مسئلہ کشمیر کو اپنی خوشگوار سیاحت کا ذریعہ بنائے، اسے عوامی جواب دہی کا سامنا کرنا چاہیے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر:پاکستانی انٹیلی جینس ایجنسی نےبھارتی را کے مذموم مقاصد بے نقاب کردیئے




