مظفرآباد: محکمہ تعلیم آزادکشمیر نے نئے تعینات ہونے والے معلمین قرآن کی تنخواہوں کا اجراء اس وقت تک روک دیا ہے جب تک سپریم کورٹ اپنا حتمی فیصلہ نہیں سناتی۔
تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران کو لکھے گئے سرکاری خط کے مطابق محکمہ نے ہدایت کی کہ نئے تعینات ہونے والے اساتذہ کو کوئی ادائیگی نہ کی جائے جبکہ کیس ابھی تک سپریم کورٹ آزادکشمیرمیں زیر التوا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے ابتدائی احکامات میں ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے بھرتی کے عمل کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مزید کارروائی روکنے کی ہدایت کی،اس کے باوجود، محکمہ نے نوٹ کیا کہ کچھ ضلعی افسران پہلے ہی تنخواہیں تقسیم کر چکے ہیں۔
یہ معاملہ فی الحال سپریم کورٹ میں زیر التوا ہےجس کی اگلی سماعت 29 اگست 2025 کو ہوگی۔جب تک اگلے احکامات یا حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا جاتا، محکمہ نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئے تعینات ہونے والے اساتذہ کی تنخواہیں روک دیں۔
یہ بھی پڑھیں: جونیئر کلرک محکمہ تعلیم طاہر بشیر کیخلاف شکایت پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل
اس سے قبل آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے محکمہ تعلیم کے تحت تقریباً 472 قرآن اساتذہ کی تقرریوں کو کالعدم قرار دیا تھا۔
جسٹس سردار اعجاز خان اور جسٹس خالد رشید پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے معاملے کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے غیر قانونی تقرریوں میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیاتھا۔
عدالت نے ہدایت کی کہ بے ضابطگیوں کے ذمہ دار افسران کی نشاندہی کے لیے 3 ماہ میں انکوائری کرائی جائے۔معلمین قرآن کی تقرریوں کے حوالے سے ہائی کورٹ میں 100 سے زائد رٹ درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔




