مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)وائس چیئر مین با رکونسل عقاب احمد ہاشمی کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتیاں آئین و قانون اور عدالتی تعبیر و تشریح کے مطابق ہونی چاہئیں ۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تقرری چیف جسٹس ہائی کورٹ اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کی consultation کے بعد ہوتی ہے اور یہ consultation ان ہی وکلاء سے متعلق ہو سکتی ہے جو ان معزز چیف جسٹس کے رو برو پیش ہوتے ہوں ۔
لہذا اعلیٰ عدلیہ میں تقرریاں آزاد کشمیر میں پریکٹس کرنے والے سینئر وکلاء ہی میں سے ہونی چاہیے ۔ وائس چیئر مین با رکونسل عقاب احمد ہاشمی نے یہ بات بار کونسل کے اجلاس منعقدہ 09 اگست 2025 بمقام راولاکوٹ میں بار کونسل کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ ۔
اجلاس میں بمطابق ایجنڈا مختلف امور امور پر پر بعد از بحث و تمحیص فیصلہ جات بھی کیئے گئے ۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر سے بار کونسل کی مکانیت کے لیے اراضی کی فراہمی کے حکم کے باوجود بیورو کریسی کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا
وزیر اعظم سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے حکم جس میں بار کونسل کو اراضی کی فراہمی کا اعلان کیا گیا تھا پر عملدرآمد کرواتے ہوئے محکمہ سروسز کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کو فی الفور منسوخ کریں
بار کونسل کے حق میں اراضی کا نوٹیفکیشن جاری کریں ۔ بصورت دیگر بار کونسل اس معاملے پر شدید احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے نیز مہاجرین مقیم پاکستان کے ملازمت میں کوٹہ کی بھی نظر ثانی کی جائے تا کہ ریاستی عوام کے حقوق کو غصب ہونے سے بچایا جائے ۔
اجلاس میں آئندہ بار کونسل کا ممبر بننے کے لیئے 15 سال تجربہ بطور وکیل ہائی کورٹ لازمی قرار دیا گیا نیز آئندہ بار کونسل کے ممبران کی تعداد 27 رکھنے پر اتفاق کیا گیا اور وکلاء کی یونیفارم سے متعلق رولز بنانے پر اتفاق کیا گیا ۔
وائس چیئر مین بار کونسل نے آزاد کشمیر میں اعلیٰ عدلیہ کی تقرریوں کے ساتھ ساتھ سروس ٹربیونل میں ممکنہ تقرریوں کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا اور ارباب اختیار سے یہ مطالبہ کیا کہ چیئرمین سروس ٹربیونل کے حوالے سے سابقہ تجربہ جس میں سیشن جج کی بطور چیئر مین تقرری عمل میں لائی گئی کو ایک نا خوشگوار تجربہ قرار دیا اور آئندہ کے لیئے آزاد کشمیر میں پریکٹس کرنے والے سینئر وکلاء میں سے تعیناتی عمل میں لائی جانے کا مطالبہ کیا
نیز چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں غیر معمولی تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا کہ اس اہم آئینی تقرری کو جلد از جلد عمل میں لایا جائے تا کہ آزاد کشمیر کی عوام میں پائے جانے والے خدشات کو دور کیا جائے ۔
وائس چیئر مین نے اس امر کا اعادہ کیا کہ آزاد کشمیر کو سرزمین بے آئین نہیں بنانے دیا جائے گا ۔ آزاد کشمیر کے وکلاء آئین و قانون اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ یہ نہیں کریں گئے اور اپنی جدو جہد جاری رکھیں گئے ۔
کالے کوٹ کا تحفظ بار کونسل کی اہم ذمہ داری ہے اور بار کونسل اپنی اس ذمہ داری سے مکمل آگاہ ہے ۔ یہ بات آزاد جموں و کشمیر بار کونسل سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والی ہیں ریلیز میں بتائی گئی ہے۔
پاکستان کی بڑی کامیابی، عالمی ثالثی عدالت کا بھارت کو پانی نہ روکنے کا حکم




