پاکستان کی بڑی کامیابی، عالمی ثالثی عدالت کا بھارت کو پانی نہ روکنے کا حکم

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)وفاقی حکومت نے پیر کے روز دی ہیگ میں قائم عالمی مستقل عدالتِ ثالثی (PCA) کے حالیہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں (چناب، جہلم اور سندھ) کا پانی پاکستان کے غیر مشروط استعمال کے لیے بہنے دینا ہوگا۔

یہ فیصلہ ایک اہم موڑ پر آیا ہے کیونکہ اپریل میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے کے بعد، جس میں 26 افراد مارے گئے تھے، بغیر ثبوت پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔ پاکستان نے اس عمل کو جنگی اقدام قرار دیا تھا اور معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو غیر قانونی کہا تھا۔

عالمی عدالت نے 8 اگست کو جاری کردہ اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ’عمومی قاعدہ یہی ہے کہ بھارت مغربی دریاؤں کے پانی کو پاکستان کے لیے بلا روک ٹوک بہنے دے‘۔ معاہدے میں کچھ مخصوص استثنات موجود ہیں، مثلاً پن بجلی کی پیداوار، لیکن ان مستثنیات کی تشریح سختی سے معاہدے کی حدود میں ہونی چاہیے نہ کہ بھارت کی مرضی یا ماڈرن انجینئرنگ پریکٹسز کے مطابق۔

یہ مقدمہ پاکستان نے 19 اگست 2016 کو بھارت کے خلاف دائر کیا تھا جس کا تعلق بھارت کی طرف سے مغربی دریاؤں پر بنائے جانے والے پن بجلی منصوبوں (جیسے رَتلے اور کشن گنگا) کے ڈیزائن اور تعمیرات سے ہے۔

عدالت کے مطابق بھارت نے اس عمل میں باضابطہ طور پر حصہ نہیں لیا تاہم عدالت نے بھارتی مؤقف کو ماضی کی دستاویزات، کمیشن کے ریکارڈز اور دونوں ممالک کی خط و کتابت سے سمجھنے اور مدنظر رکھنے کی پوری کوشش کی۔


جب دونوں ادارے (یعنی عدالت اور نیوٹرل ایکسپرٹ) ایک ساتھ کام کر رہے ہوں، تو وہ ایک دوسرے کے فیصلوں کو مدنظر رکھنے کے پابند ہیں معاہدے کی شق D کی شق 8(d)، 8(e) اور 8(f) میں ڈیم کے مختلف اجزاء جیسے لو لیول آؤٹ لیٹس، گیٹڈ اسپِل ویز اور ٹربائن کے لیے پانی کے داخلے کے طریقے کی وضاحت موجود ہے، جن کا مقصد پاکستان کے خدشات کو دور کرنا ہے کہ کہیں بھارت پانی ذخیرہ کر کے اسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے۔

زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش (Pondage) کے بارے میں عدالت کا مؤقف

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مستقل بجلی پیدا کرنے کے لیے درکار پانی کا ذخیرہ (pondage) اس بنیاد پر حساب کیا جائے گا کہ کم از کم اوسط بہاؤ (minimum mean discharge) جو تاریخی طور پر پانی کا کم ترین بہاؤ ہوتا ہے کے دوران 7 دن کے عرصے میں کتنا پانی جمع ہوتا ہے۔

اس حساب میں ضمیمہ ’ڈی‘ کی شق 15 میں بیان کردہ روزانہ اور ہفتہ وار نیچے کی طرف پانی چھوڑنے کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، ساتھ ہی بجلی گھر کی تنصیب شدہ صلاحیت اور متوقع استعمال کی ایک حقیقت پسندانہ، ٹھوس اور قابلِ دفاع پیش گوئی کو بھی شامل کیا جائے گا۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش اس مقدار سے دو گنی سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

پونڈیج (pondage) یعنی ڈیم میں پانی جمع کرنے کی مقدار اور اس کی حد بھی متعین کی گئی کہ یہ معاہدے کے مطابق ہو اور بجلی کی پیداوار کے لیے جائز مقدار سے زیادہ نہ ہو۔

مزید یہ کہ عدالت نے کہا کہ جب بھارت مغربی دریاؤں پر کوئی نیا رن آف ریور ہائیڈرو الیکٹرک منصوبہ (run-of-river plant) بنائے، تو وہ صرف اس حد تک فری بور (freeboard) رکھنے کا مجاز ہے، جو پانی کی مکمل سطح (Full Supply Level) سے بند کی چوٹی تک اتنا ہو جو بین الاقوامی تسلیم شدہ معیارات کے مطابق ڈیم کی مجموعی حفاظت کو ممکن بنائے تاکہ پانی کے اوورفلو سے بچاؤ یقینی بنایا جا سکے۔

یوم آزاد ی تیاریاں: اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے طیاروں کی گھن گرج سے گونج اٹھا

Scroll to Top