تعلیمی بورڈ میرپور کے ریجنل دفاتر کی ممکنہ منتقلی،شہریوں کا احتجاج، وزیراعظم سے مداخلت کی اپیل

راولاکوٹ (کشمیر ڈیجیٹل) ڈویژنل ہیڈکوارٹر راولاکوٹ سمیت آزادکشمیربھرمیں تعلیمی بورڈ کے علاقائی دفتر کی مبینہ منتقلی کے فیصلے پر میونسپل کارپوریشن راولاکوٹ کے منتخب کونسلروں، میئر اور دیگر نمائندوں نے شدید تشویش اور احتجاج کا اظہار کیا ہے۔

اس حوالے سے میونسپل کارپوریشن آفس میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا ، جس میں مئیر میونسپل کارپوریشن سردار عبدالنّعیم خان، ڈپٹی میئر قاضی نثار، ممبران سردار عامر خورشید خان، عامر رفیق خان، وحید خان، شوکت حسین خان اور دیگر نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے بعد مئیر کارپوریشن راولاکوٹ اور دیگر ممبران نے میونسپل کارپوریشن کے آفس کے سامنے احتجاج ریکارڈ کروایا

مقررین نے کہا کہ راولاکوٹ میں قائم تعلیمی بورڈ کا علاقائی دفتر صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ پونچھ ڈویژن کے ہزاروں طلباء، والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے لیے سہولت کا بڑا ذریعہ ہے۔

دفتر کی موجودگی سے نہ صرفامتحانات،اسناد،رجسٹریشن اور دیگر تعلیمی معاملات بروقت انجام پاتے تھے، بلکہ سینکڑوں افراد روزانہ اس دفتر سے مستفید ہوتے ہیں شہری حکومت کے نمائندوں نے واضح کیا کہ اس دفتر کو بند کرنا یا کسی اور مقام پر منتقل کرنا “پونچھ دشمنی” کے مترادف ہوگا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ حکومتی اقدام تعلیمی سہولیات کم کرنے اور عوام کو مشکلات میں دھکیلنے کے برابر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جو ادارے عوام کی خدمت کے لیے بنائے گئے ہیں، ان کو ختم کرنے کی بجائے مزید سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔

مئیر راولاکوٹ سردار عبدالنّعیم خان نے کہا کہ ہم اس ناانصافی پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو بھرپور عوامی احتجاج کیا جائے گا۔ ڈپٹی میئر قاضی نثار کا کہنا تھا کہ بورڈ آفس کی منتقلی کا فیصلہ تعلیم دشمن پالیسی کا حصہ لگتا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔

منتخب کونسلروں نے وزیراعظم آزاد کشمیر، وزیر تعلیم اور چیئرمین تعلیمی بورڈ سے پرزور اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور پونچھ ڈویژن کے صدر مقام راولاکوٹ سے بورڈ آفس کی منتقلی کے فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کریں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ نہ صرف موجودہ دفتر برقرار رکھا جائے بلکہ اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ طلباء و طالبات کو جدید اور بروقت سہولیات میسر آسکیں۔

دوسری جانب راجہ آفتاب صدیق ایڈووکیٹ صدر سول سوسائٹی مظفرآباد کا کہنا تھا کہ چیئرمین تعلیمی بورڈ میرپور کی جانب سے ریجنل دفاتر کی بندش کا حکم غیر قانونی ہے چونکہ یہ دفاتر سپریم کورٹ کے حکم پر کام کر رہے ہیں اس لیے ان کو بند کرنے کا حکم توہین عدالت کے زمرہ میں آتا ہے۔

اس حکم کے خلاف نہ صرف توہین عدالت کی کاروائی شروع کرنے کے لیے درخواست دائر کی جائے گی بلکہ احتجاج کا راستہ بھی اپنایا جائے گا
مزید یہ بھی پڑھیں:نیپرا نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 1روپے89 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کی منظوری دیدی

Scroll to Top