اسلام آباد: صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے یوم استحصال کشمیر پر اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ کشمیری حق خودارادیت کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
صدر بیرسٹر سلطان نے کہا کہ 5اگست2019ء کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی محکوم عوام پر ظلم و بربریت میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور بھارت مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی طور پر جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ جمانا چاہتا ہے۔
ان تمام بھارتی مظالم کے باوجود کشمیری عوام بغیر کسی ہتھیار کے بھارتی دہشت گردی اور بربریت کادلیری کے ساتھ سامنا کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنی پرامن تحریک آزادی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بھارت مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنانا چاہتا ہے لیکن کشمیری عوام بھارت کا حصہ بننے سے انکاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے اور اب جب کشمیر پر پاک بھارت مذاکرات ہوں تو اُن میں کشمیریوں کو بھی مذاکرات کی میز پر بٹھانا چاہیے تاکہ مسئلہ کشمیر کا جامع اور پائیدار حل نکل سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی شخصی ضمانت پر رہا
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ دونوں اطراف کے کشمیریوں کی طرف سے بطور صدر یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیر کی کسی قسم کی تقسیم کشمیری عوام قبول نہیں کریں گے۔
5اگست2019ء کا دن کشمیریوں کے لئے ایک سیاہ ترین دن ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب کو مل کر ہندوستان کی جانب سے جاری ریاستی دہشت گردی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا ہو گا۔
وزیر اعظم چوہدری انوارالحق نے اپنے پیغام میں کہا کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب مقیم ریاست جموں وکشمیر کے لوگ،پاکستانی اور بیرون ملک بسنے والے کشمیری اور پاکستانی 5اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔
5اگست 2019کو بھارت میں مودی کی حکومت نے ہندوتوا کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: چیف الیکشن کمشنر کی عدم تعیناتی کیخلاف پٹیشن دائر،صدر، وزیراعظم سمیت حکومت کو نوٹس جاری
مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہندوستان نے ڈومیسائل کا نیا قانون متعارف کروایاہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے جو کہ جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی ہے۔
5اگست 2019کا بھارتی اقدام کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تمام قرار دادوں بالخصوص 1951کی قرار داد 91اور 1957کی قرار داد 122کی خلاف ورزی ہے، بھارت کے غیر قانونی اقدامات اور قبضہ تنازعہ کشمیر کی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔
عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں پر فوری عمل درآمد کے ذریعے کشمیریوں کو حق خود ارادیت کا استعمال کرنے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام حق خودارادیت کی جدوجہد جاری رکھیں گے اور بھارت کے غاصبانہ اور غیر اخلاقی قبضے کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔
کشمیر ی عوام کی طر ف سے میں ان تمام ممالک، بین الاقوامی اداروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافتی تنظیموں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے بھارت کے عزائم کو بے نقاب کیا ۔




