اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل)جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ فلسطین اور کشمیر کے تنازعات حل کئے بغیر دنیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا،صاف و شفاف انتخابات، آئین کا تحفظ اور عوامی مینڈیٹ کا احترام قومی استحکام کیلئے ناگزیر ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں نے عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں، حکمران اپنی عیاشیاں ختم کریں، پرامن احتجاج اور عوامی مسائل کے حل کیلئے آواز بلند کرنا ہر شہری کا حق ہے۔
مزیدیہ یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر کے سابق صدر راجہ ذوالقرنین خان کی نماز جنازہ ادا،صدر، چیف جسٹس سمیت اہم شخصیات کی شرکت
آزاد کشمیرکے بحران نے مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا یا،پاکستان اور افغانستان کشیدگی مذاکرات سے ختم کریں۔
افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہیے،مکہ معاہدے میں دیگر اسلامی ممالک شامل ہونے چاہیے،حرمین شریفین کا دفاع ایمان کا حصہ ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان کے زیراہتمام سالانہ اجلاس جنرل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
اس موقع پر جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان سیکرٹری جنرل راجہ جہانگیر خان مولانا ساجد انورسمیت دیگر قائدین نے خطاب کیا ۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ یہ اجتماع ایسے وقت میں ہورہا ہے جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، فلسطین میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے جبکہ آزاد کشمیر کے حالات بھی تشویشناک ہیں۔ پاکستان اندرونی و بیرونی چیلنجز، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحرانوں کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے جماعت اسلامی پاکستان نے امیر جماعت پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کوشش کی مسئلہ حل ہو مگر عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کی طرف سے جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج عوام کا حق ہے، لیکن احتجاج کے دوران مسلح راستہ اختیار کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
ہمیں ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جن سے مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی متاثر ہو۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پوری دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
فلسطین میں لاکھوں انسان شہید ہوچکے ہیں لیکن فلسطینی عوام کے عزم اور حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اسی طرح لاکھوں قربانیوں کے باوجود کشمیری عوام اپنی تحریک آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور بھارت کی پالیسیوں اور مظالم نے عالمی سطح پر نفرت کو جنم دیا ہے۔ فلسطین اور کشمیر کے تنازعات حل کیے بغیر دنیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔
عالمی برادری کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیتے ہوئے مظلوم عوام کو ان کا حق خودارادیت دلانے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوگا ، لیاقت بلوچ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس تعاون کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے اور دیگر مسلم ممالک کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے مکہ مکرمہ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا،انہوں نے کہا کہ پاکستان، قطر، ترکی اور ایران کو سفارتی محاذ پر اپنا کردار ادا کرتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
عالم اسلام کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لیاقت بلوچ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کسی کے مفاد میں نہیں۔
مسائل کا حل طاقت کے بجائے بات چیت اور حق و انصاف پر مبنی مذاکرات میں ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور افغان حکومت کو دہشت گردی روکنے کیلئے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
پاکستان نے طویل عرصے تک افغان بھائیوں کی میزبانی کی ہے، افغان عوام کو بھی اس جذبے کا احساس کرنا چاہیے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے درمیان کشمکش جاری ہے جبکہ جمہوریت اور آئین بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔
عوام کا اعتماد اسی وقت بحال ہوسکتا ہے جب انہیں یقین ہو کہ ان کے ووٹ اور مینڈیٹ کا احترام کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ صاف و شفاف انتخابات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ آئین کا تحفظ، جمہوریت کی مضبوطی اور عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا قومی استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔
جماعت اسلامی گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت نہیں کرتی۔انہوں نے تحریک انصاف کی سابقہ حکومتوں کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور وفاق میں تحریک انصاف کو حکومت کے مواقع ملے لیکن عوامی توقعات کے مطابق کارکردگی سامنے نہیں آسکی۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری، پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور بجلی کے بھاری بل عام آدمی کیلئے شدید مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ حکمران اپنی شاہ خرچیاں اور مراعات ختم کرکے وسائل عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے معاہدوں اور پٹرولیم لیوی سمیت عوام پر عائد اضافی مالی بوجھ کے خلاف مسلسل آواز اٹھائی ہے۔ ہماری جدوجہد کا مقصد عوام کو مہنگائی اور غیر ضروری مالی بوجھ سے نجات دلانا ہے۔
مزیدیہ یہ بھی پڑھیں:انڈر 19 ایشیا کپ : پاکستان نے بھارت کو3 وکٹوں سے شکست دیدی
حکمرانوں کو عوام دوست پالیسیاں اختیار کرنا ہوں گی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی پشتیبانی ہے تحریک آزادی کشمیر ہو یا آزاد کشمیر کے اندر کوئی قدرتی آفت آئے جماعت اسلامی پاکستان سب سے پہلے کشمیریوں کے پاس آتی ہے۔




