نیلم(راجہ ساجد) وادی نیلم میں عوام نے کالعدم ایکشن کمیٹی کا بیانیہ عوام نے مسترد کردیا ۔روزمرہ معمولات معمول کے مطابق جاری،انتشاریوں کیخلاف ریاست گیرکریک ڈاؤن ،بازاروں تجارتی مقامات پر کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کی طرف سے امن عامہ میں خلل ڈالنے والوں کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں۔جرائم پیشہ شرپسند عناصر روپوش ہو گئے ۔سرکاری دفاتر سرکاری و نیم سرکاری املاک کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد ، شہریوں کا سوشل میڈیا پر سکیورٹی فورسز کیخلاف منفی پروپیگنڈا کرنیوالوں کیخلاف سخت ردعمل
رپورٹ کے مطابق کالعدم الیکشن کمیٹی کاانتشاری بیانیہ بے نقاب ہونے پر عوام نے ایکشن کمیٹی سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ بازار تجارتی مراکز مارکیٹیں معمول کے مطابق کھل رہی ہیں۔
سیاحتی مقامات پر سیاحتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں سیاحوں کی آمدرفت جاری ہے۔راولاکوٹ میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد ضلع نیلم بھر میں سکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر انتشاریوں کے پروپیگنڈے کے بعدعوام نے انتشاری کمیٹی کے بیانیہ کومستردکر دیا ہے۔ریاستی ادروں اور حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کے خلاف ریاست گیر کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔
شر پسند عناصردنگوں فساد کی پرانی وڈیوز بیرون ملک قائم سائبر سیلز کے ذریعے پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔اور حالات کو خراب کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
سیاسی سماجی جماعتوں سمیت سول سوسائٹی کی طرف سے کالعدم ایکشن کمیٹی کے فساد سے لوگ تنگ آکر اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے فسادیوں کے خلاف فوری کارروائی کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گالم گلوج اور جھوٹے پروپگنڈے پھیلانے والوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی گئی ہے۔گمراہ کن پروپیگنڈہ پھیلانے والوں کے خلاف ایف آئی آرز کا اندراج کیا جا رہا ہے۔
بڑی تعاد میں جرائم پیشہ ان عناصر کے نام فور شیڈول میں ڈالے جا رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نیلم اقبال حسن کے مطابق ضلع نیلم انتہائی پرامن ہے ہڑتال یا کسی بھی قسم کے احتجاج پردفعہ 144نافذ ہے۔
پولیس روزانہ کی بنیادپر فلیگ مارچ کر کے شہریوں کے جان مال کے تحفظ کیلئے الرٹ ہے۔امن عامہ میں خلل ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ہمارے دوست وقت دیکھ کر بیانیہ نہ بدلیں، وزیراعظم افتخار گیلانی
عوامی حلقوں کی طرف سے شرپسندوں کے خلاف آپریشن اور قانون کی بالادستی کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔




