ٹرمپ انتظامیہ میں ایران پر شدید اختلافات، مشیر دو دھڑوں میں تقسیم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور مشیروں کے درمیان ایران کے ساتھ جاری جنگ کے مستقبل کو لے کر دو مختلف اور متضاد مؤقف سامنے آئے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے اندر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے یا انہیں مکمل طور پر ختم کرنے کے حتمی فیصلے پر شدید اختلافات اور پھوٹ نمایاں ہو گئی ہے۔

صدر ٹرمپ کے بعض مشیر ایران کے خلاف فوجی اقدامات اور کارروائیاں فوری طور پر ختم کرنے کے حق میں ہیں، جبکہ انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ عہدے دار ایران پر دوبارہ سے شدید فوجی حملے کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

جے ڈی وینس کا موقف اور عالمی اتحادیوں کا مشورہ:

معروف امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور خلیجی اتحادی ممالک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جزیرہ قشم پر پھر میزائل حملے،ٹرمپ کا تفصیلات بتانے سے گریز

اس کے برعکس صدر ٹرمپ کے بعض دیگر مشیروں کا پختہ موقف ہے کہ ایران کے خلاف دوبارہ سے فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا جائے۔ اس طرح انتظامیہ کے اہم اراکین جنگ کے خاتمے اور نئی فوجی مہم کے سوال پر واضح طور پر تقسیم نظر آتے ہیں۔

وسط مدتی انتخابات کا سیاسی دباؤ اور حتمی صورتحال:

رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے دوران ووٹرز کی جانب سے جنگ کو مسترد کیے جانے کا نمایاں رجحان سامنے آیا ہے، جو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا اور اہم سیاسی چیلنج بن چکا ہے۔

موجودہ حالات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک جانب اپنی ٹیم اور مشیروں کے متضاد مواقف کا سامنا ہے تو دوسری جانب جنگ سے مرتب ہونے والے شدید سیاسی اثرات اور عوام کی رائے کا بھی مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ ایران پر جاری کشیدگی کے مستقبل کے حوالے سے فی الوقت امریکی انتظامیہ کے اندرونی اختلافات سب کے سامنے آ چکے ہیں۔