راولاکوٹ: بس ٹرمینل روڈ بلاک پر فائرنگ، ایکشن کمیٹی کا پروپیگنڈا بے نقاب

آزاد کشمیر کے ضلع راولاکوٹ میں بس ٹرمینل پر طویل عرصے سے قائم غیر قانونی دھرنے اور روڈ بلاک کو ختم کروانے کے لیے انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کیے جانے والے آپریشن کے دوران پولیس اور مسلح عناصر کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایکشن کمیٹی کی جانب سے گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلا کر عوامی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مقامی ذرائع اور پولیس پریس ریلیز کے مطابق بس ٹرمینل پر دیے گئے دھرنے کے باعث کافی عرصے سے عام شہریوں کی آمدورفت مکمل طور پر معطل تھی اور ٹریفک کی روانی میں شدید خلل پڑ رہا تھا، جس سے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا تھا۔ آج صبح جب پولیس اور مقامی انتظامیہ نے عوامی مفاد میں بس ٹرمینل کو خالی کروانے کے لیے پیش قدمی کی تو دھرنے میں موجود مسلح شرکاء نے پولیس پر اندھادھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں پولیس نے بھی کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو خالی کروا لیا۔

یہ بھی پڑھیں: راولا کوٹ میں گھروں کے اندر سے کالعدم ایکشن کمیٹی کے غنڈوں کی فورسز پر اندھا دھند فائرنگ

سوشل میڈیا پروپیگنڈا اور پولیس پریس ریلیز کے حقائق:

واقعے کے بعد ایکشن کمیٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی، جبکہ پولیس کی باقاعدہ پریس ریلیز کے مطابق دھرنے کے شرکاء میں مسلح اور تربیت یافتہ عناصر شامل تھے جنہوں نے پہلے پولیس اور وہاں موجود افراد پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں اب تک دو نوجوانوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

کشمیر ڈیجیٹل کے مطابق سوشل میڈیا پر دونوں اطراف سے مختلف دعوے اور ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں جن کی حتمی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ تاہم انتظامیہ اور پولیس نے واضح کیا ہے کہ عوامی راستوں کی بحالی، شہریوں کو مشکلات سے نجات دلانے اور علاقے میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔