اسلام آباد: سینئر سیاستدان ،پیپلزپارٹی کے رہنما میاں عبدالوحید کی جانب سے اسمبلی میں کی گئی تنقید کے جواب میں مسلم لیگ( ن) آزادکشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے انتہائی سخت ردعمل دیا جو سوشل میڈیا پر زیر بحث بن گیا ۔
سوشل میڈیا کے کچھ صارفین نے شاہ غلام قادر کو اپنا ایڈمن بدلنے کا مشورہ دیا ہے تو کچھ نے ان کے بیان کو انتہائی ناشائشہ قراردیا ہے جبکہ کچھ متوالے ان کے حق میںبھی سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ریاستی مالیاتی خودمختاری پرکمپرومائز نہیں کیا جاسکتا، وزیراعظم افتخار گیلانی
گزشتہ روز پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی میاں عبدالوحید اپنے سیاسی حریف شاہ غلام قادر کوتبادلوں کے معاملے پر تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ شاہ غلام غلام قار اسمبلی میں موجود نہیں تھے۔
میاں عبدالوحید اسمبلی اجلاس کے دوران اپنے حلقے میں آٹا کے معیار کے حوالے سے بھی آواز اٹھائی۔
دوسری طرف مسلم لیگ(ن) آزادکشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے سوشل میڈیا سائٹ فیس بک پر ردعمل میں کہا کہ معلوم ہوا کہ سابق وزیر اعظم انوارالحق کی گاڑی سے لٹکنے والے ان کےسابق وزیر قانون نے آج اسمبلی کے فورم پرمیری غیر موجودگی میں میرے خلاف تقریر کی اور کچھ الزامات عائد کئے ان کا جواب اگلے اجلاس دیا جائے گا۔
ایک صارف نے شاہ غلام قادر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کے ایڈمن کو سیاست کرنے کا سلیقہ نہیں آتا؟ شاید یہی وجہ رہی کہ آپ وزیراعظم بھی نہ بن سکے کیونکہ آپ کے اردگرد موجود ٹیم میں ایسے لوگ شامل ہیں جو سیاسی اختلاف اور تنقید کا جواب دلیل کے بجائے ذاتی حملوں سے دیتے ہیں۔ سیاست میں برداشت اور شائستگی بھی ضروری ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ڈاکٹر نجیب نقی سے شاہ غلام قادر کی اہم ملاقات،سیاسی امور پر تبادلہ خیال
ایک اور صارف نے لکھا کہ اجلاس کا جواب اجلاس میں ہی مناسب تھا ،سوشل میڈیا پر عوام کو بے وقوف نہ بنائیں، باقی آپ سے سادی سی گزارش ہے اپنے حلقے میں سکولوں اور اسپتالوں پرفوکس کریں۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق کی مخلوط حکومت میں میاں عبدالوحید وزیر قانون تھے ، مسلم لیگ(ن) بھی حکومت کا حصہ تھی لیکن کابینہ میں شاہ غلام قادر شامل نہیں تھے۔




