اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز اور مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری سالک حسین نے پنجاب حکومت میں بدعنوانی سے متعلق اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے قانونی نوٹس بھجوائے جانے کا علم سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا، نوٹس موصول ہونے پر عدالت میں اس کا بھرپور جواب دیں گے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پنجاب میں کرپشن سے متعلق انہوں نے جو بات کی تھی، وہ ان کا ذاتی موقف ہے اور وہ آج بھی اس پر قائم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مریم نواز نے چوہدری سالک کو نوٹس بھیج دیا،وفاقی وزیر بھی ڈٹ گئے
انہوں نے کہا کہ2روز قبل پنجاب حکومت نے خود بھی صوبے میں کرپشن کی موجودگی کو تسلیم کیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر گجرات کی تعیناتی سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے اپنے خلاف لگائے گئے الزام کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔
چوہدری سالک حسین کا کہنا تھا کہ انہیں تاحال وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے قانونی نوٹس موصول نہیں ہوا، اس بارے میں سوشل میڈیا سے معلوم ہوا ہے۔ اگر نوٹس موصول ہوا تو وہ عدالت میں اس کا مکمل اور بھرپور جواب دیں گے۔
مسلم لیگ ق کی وفاقی حکومت سے ممکنہ علیحدگی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے اس امکان کو مسترد کردیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فی الحال اتنا کہنا کافی ہے کہ قانونی نوٹس کا جواب دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:کیپٹن (ر) صفدر کے خواتین سے متعلق ریمارکس پر مریم نواز کا ردعمل آگیا
واضح رہے کہ وفاقی وزیر چوہدری سالک نے ایک ٹی وی پروگرام میں پنجاب میں مبینہ کرپشن سے متعلق بات کی تھی، جس کا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پہلے سخت جواب دیا اور پھر ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا ہے اور اس پر دونوں کے مابین لفظی گولہ باری جاری ہے۔




