امریکا، وسط مدتی انتخابات میں تاریخ رقم کرنے والے عبدال السید کون ہیں؟

امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد جہاں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، وہیں امریکا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی مسلمان بھی سینیٹ کا رکن منتخب ہوا ہے۔

ریاست مشی گن سے کامیاب ہونے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار عبدالرحمان السید نے جوعبدال السید کے نام سے معروف ہیں، اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا کہ آپ نے ایک ایسے امیدوار پر اعتماد کیا جس کی کامیابی کا امکان سب سے کم سمجھا جا رہا تھا۔ مشی گن میں آپ کی خدمت کرنے کا منتظر ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا مڈٹرم الیکشن، ریاستی نشستوں پر 6پاکستانی نژاد کامیاب

انھوں نے یہ بھی کہا کہ میرا نام عبدالرحمان محمد السید ہے۔ مجھے ریاست مشی گن میں آپ کا سینیٹر منتخب ہونے پر فخر ہے۔میں اب تک انشا اللہ کہتا تھا یعنی اگر خدا نے چاہا لیکن آج ہم اس انشا اللہ کو الحمد اللہ (خدا کا شکر ہے) سے بدل رہے ہیں۔

انھوں نے نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حبیبی ستم ظریفی ہے کہ آئینی طور پر لازم ہے کہ آپ کو مجھے جنوری میں حلف دلوانا ہو گا۔

خیال رہے کہ انتخابی مہم کے آخری دنوں میں السید کو اپنی جماعت کے اندر سے ایک غیر متوقع چیلنج کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

 ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن ہیلی سٹیونز جنہیں السید نے پارٹی نامزدگی کی دوڑ میں معمولی فرق سے شکست دی تھی نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔تاہم اس کے باوجود وہ انتخابات میں کامیاب رہے ہیں۔

عبدال السید 1984 میں ڈیٹرائٹ کے مضافات میں واقع روچیسٹر ہلز میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین مصر سے امریکہ آنے والے تارکین وطن تھے۔

جب وہ تین برس کے تھے تو ان کے والدین الگ ہو گئے، جس کے بعد ان کی پرورش ان کے والد اور سوتیلی والدہ جیکولین جانسن نے کی۔

انہوں نے یونیورسٹی آف مشیگن اور کولمبیا یونیورسٹی سے طب کی تعلیم حاصل کی اور وبائی امراض کے شعبے میں سپیشلائز کیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی مڈٹرم الیکشن: ٹرمپ ایوان نمائندگان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ڈیموکریٹس کو بڑی برتری حاصل

2015 میں ڈیٹرائٹ سٹی کے محکمہ صحت کے ایگزیکٹو سربراہ کے طور پر ان کی تقرری نے قومی ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کی۔ تین سال بعد السید نے مشی گن کے گورنر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑا۔

وہ ڈیموکریٹک پرائمری میں دوسرے نمبر پر رہے لیکن گریچن وِٹمر سے 20 فیصد سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے ہار گئے جو بعد میں مسلسل دو مدتوں کے لیے مشی گن کی گورنر منتخب ہوئیں۔

گریچن وِٹمر نے 2026 کے سینیٹ پرائمری انتخابات میں ہیلی سٹیونز کی حمایت کی تھی تاہم جب السید پارٹی کے امیدوار بن گئے تو انھوں نے ان کی انتخابی مہم کی کھل کر حمایت کی۔

السید کو برنی سینڈرز، الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز اور نیو یارک کے میئر زوہران ممدانی جیسے رہنماؤں کی حمایت حاصل رہی۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما سمیت اعتدال پسند ڈیموکریٹس بھی ان کی انتخابی مہم کی حمایت کرتے رہے کیونکہ مشیگن کی نشست جیتنا سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی ڈیموکریٹس کی حکمت عملی میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران السید امریکہ کی اسرائیل کو فوجی امداد پر بھی تنقید کرتے رہے اور یہ سوال بھی اٹھا چکے ہیں کہ آیا اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر برقرار رہنے کا حق حاصل ہے یا نہیں۔

29 اکتوبر کو ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے السید نے اپنے حامیوں سے کہاکہ ٹیکس ادا کرنا اور یہ یقین رکھنا کہ یہ رقم آپ اور آپ کے بچوں پر خرچ ہو گی، نہ کہ دوسروں اور ان کے بچوں پر بم گرانے کے لیے، اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔

السید نے سات اکتوبر 2023 کے حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں کے بعد غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو ’نسل کشی‘ قرار دیاتھا

انتخابی مہم کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عبدل السید کو بار بار تنقید کا نشانہ بنایا۔ٹرمپ نے انھیں کمیونسٹ قرار دیا اور الزام لگایا کہ وہ یہودیوں اور اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں۔ تاہم عبدل السید اس کی تردید کرتے ہیں۔

 لاس ویگاس میں ایک تقریب کے دوران ٹرمپ نے کہاکہ وہ (عبدل السید) یہودیوں اور اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں۔ وہ نفرت سے بھرے ہوئے آدمی ہیں۔ٹرمپ نے کہا تھا کہ السید کی سیاست ’گندگی، جرائم، موت، تباہی اور شرمندگی‘ لائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا انتخابات، خلا سے بھی ووٹ کاسٹ، یہ روایت کب سے ہے؟

ٹرمپ کے ریمارکس پر ردِعمل دیتے ہوئے عبدل السید نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر طنزیہ انداز میں لکھا تھاکہ میں اپنے بارے میں اس سے بہتر کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔

ریپبلکنز نے السید پر اخوان المسلمین سے روابط رکھنے کا الزام بھی عائد کیا۔عبدال السید کو بائیں بازو کے تجزیہ کار حسن پائیکر کے ساتھ تعلقات پر بھی تنقید کا سامنا رہا۔