مسلم لیگ ن پونچھ کے سینئر سیاسی رہنما اور صدر ٹریڈ ونگ سردار وجہی الاسلام نے کشمیر ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے راولاکوٹ کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ راولاکوٹ کو تباہ کرنے والے جتھوں اور نقاب پوش عناصر سے فوری اور سختی سے نمٹا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت راولاکوٹ شہر میں کرفیو جیسی صورتحال ہے اور عوام شدید پریشان حال اور فاقوں پر مجبور ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء اور آٹا دستیاب نہیں ہے، تعلیمی نظام معطل اور تجارت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ اندازے کے مطابق اس ابتر صورتحال کی وجہ سے راولاکوٹ کی تجارت کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے۔
بنیادی حقوق سلب اور عوام کو یرغمال بنانے کے الزامات:
سردار وجہی الاسلام نے کہا کہ ایکشن کمیٹی بنیادی حقوق کا نعرہ لگا کر درحقیقت راولاکوٹ کے عوام کو یرغمال بنا چکی ہے اور تمام بنیادی حقوق غصب کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جن کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور جنہوں نے 1947 میں غازیِ ملت سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں آزادی حاصل کی، آج ان کے پیروکاروں کو اپنے ہی گھروں میں محصور ہونا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے پورے آزاد کشمیر کے غنڈوں، اوباش نوجوانوں اور منفی عناصر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام عناصر اس وقت ایکشن کمیٹی کی چھتری تلے راولاکوٹ میں جمع ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کے عزائم کچھ اور، ان کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے: ثاقب مجید
حکومتِ آزاد کشمیر سے مطالبات اور خبردار کرنے کا پیغام:
سردار وجہی الاسلام نے صدر آزاد کشمیر اور وزیر اعظم / حکومت سے پرزور گزارش کی کہ ناکوں پر موجود مسلح اور نقاب پوش افراد کو فوری گرفتار کیا جائے جو عوام کو ذلیل و خوار کر رہے ہیں۔ راولاکوٹ میں قانون کی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، لہٰذا وہاں فوراً قانون کی حکمرانی بحال کی جائے۔
انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان مسلح نقاب پوشوں کو کیفَرِ کردار تک نہ پہنچایا گیا تو لوگ مجبورا ًقانون ہاتھ میں لے لیں گے اور علاقے میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی، لہٰذا حکومت اس سنگین وقت سے ڈرے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گھروں میں محصور شہریوں کے لیے راولاکوٹ میں کھانے پینے کی اشیاء اور آٹے کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ کوئی بھوک سے نہ مرے۔
انٹرویو کے آخر میں انہوں نے راولاکوٹ کے عوام سے اپیل کی کہ وہ دوبارہ منظم ہوں اور ایکشن کمیٹی کے منفی کرتوتوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ان کے خلاف میدانِ عمل میں نکلیں۔




