راولاکوٹ میں سڑکوں کی مسلسل بندش، فسادی ٹولے پر عوام کی کڑی تنقید

آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں نے راولاکوٹ میں فسادی جتھے کے دھرنے اور سڑکوں کی مسلسل بندش کے باعث مقامی آبادی کے شدید محصور ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس ٹولے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

 میرپور، مظفرآباد، کوٹلی، بھمبر اور نیلم سمیت ریاست بھر کے مختلف علاقوں کے شہریوں کا کہنا ہے کہ فسادی جتھے کے دھرنے اور سڑکوں کی بندش کی وجہ سے عام شہری بالکل محصور ہو کر رہ گیا ہے اور عام ادمی کی روزمرہ زندگی مکمل طور پر متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔

شہریوں نے انکشاف کیا کہ فسادی جتھے کے خوف اور سڑکوں کی بندش سے شہری اپنی دکانیں کھولنے سے بھی قاصر ہیں اور صرف اور صرف ایکشن کمیٹی کے ڈر کی وجہ سے وہاں پر جو لوگ ہیں ان کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہیں اور وہ اپنے ہی علاقوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

تعلیمی نظام معطل، امتحانات منسوخ اور روزگار تباہ:

شہریوں نے احتجاج اور راستوں کی بندش پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس غیر قانونی اور تشدد آمیز دھرنے کی وجہ سے وہاں بچوں کا پورا ایجوکیشن سسٹم سارا ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ تعلیمی اداروں کی بندش اور بالخصوص میڈیکل کے امتحانات کی منسوخی سے طلباء کا جو شدید تعلیمی نقصان ہو رہا ہے، اس کا براہ راست ذمہ دار یہی فسادی جتھہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: راولاکوٹ کو تباہ کرنے والے جتھوں سے جلد نمٹا جائے: سردار وجہی الاسلام

مزید برآں، سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے وکلاء کورٹس تک جانے سے محروم ہیں اور لوگوں کا کاروبار اور روزگار کا ذریعہ مکمل طور پر ختم ہو کر رہ گیا ہے۔

بنیادی ضروریات کی شدید قلت اور عوامی سوالات:

راستوں کی مسلسل بندش کے باعث راولاکوٹ اور گردونواح کے شہریوں کی آمدورفت انتہائی محدود ہو چکی ہے، جس سے اشیائے خوردونوش، ادویات اور دیگر تمام بنیادی ضروریات کی فراہمی شدید متاثر ہے۔

آزاد کشمیر کے غیور شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اس تمام تر صورتحال میں عام آدمی کا کیا قصور ہے؟ ایک طرف سڑکیں بند کی جا رہی ہیں، تو دوسری جانب تعلیمی ادارے، مختلف بنیادی سہولیات اور ہسپتالوں جیسی اہم ترین فیسیلٹیز کو بھی بند کر دیا گیا ہے؛ آخر اس سے عوام کو کیا حاصل ہوا ہے؟ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ راولاکوٹ کے محصور عوام کو اس خوف اور تشدد سے فوری نجات دلائی جائے۔