معروف اداکار نصیرین الدین شاہ نے مودی کو بے نقاب کردیا

 بھارت کے معروف اداکار نصیرالدین شاہ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’ناجائز حکومت‘ قرار دیا اور ملک میں انتشار پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

نصیرالدین شاہ نے خود کو ذہنی نکسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان جیسے افراد کو ملک دشمن اور ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘ سمیت مختلف القابات دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت میں کوئی اصل ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘ ہے تو وہ موجودہ حکومت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مودی کیخلاف سرگرم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ کی جان کو خطرہ،ایف بی آئی نے آگاہ کردیا

نصیرالدین شاہ نے اپنے بیان میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، ستیہ جیت رے فلم انسٹی ٹیوٹ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کا حوالہ دیتے ہوئے طلبہ کو درپیش مسائل پر سوالات اٹھائے۔

اداکار نے حکمران جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کا حوصلہ توڑنے، تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچانے اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالنے کے لیے مزید کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے زور دیا کہ طلبہ کے ساتھ ہونے والے مبینہ ناروا سلوک کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور ان واقعات کو یاد رکھا جائے گا۔

نصیرالدین شاہ نے اپنے بیان میں حکومت کے حامی میڈیا اور بی جے پی کے آئی ٹی سیل سے وابستہ افراد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

 انہوں نے بعض میڈیا شخصیات کے روئیے پر اعتراض کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومتی حامی حلقے طلبہ اور اختلافی آوازوں کے خلاف ماحول پیدا کر رہے ہیں۔

اپنے بیان کے اختتام پر نصیرالدین شاہ نے بھارتی نوجوانوں کے حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام تر دباؤ کے باوجود ان کے عزم کو توڑا نہیں جا سکے گا، تعلیمی ادارے تباہ نہیں ہوں گے اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں:جین زی اور اپوزیشن اتحاد کے احتجاج سے مودی سرکار عالمی سطح پر مزید بے نقاب

انہوں نے نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دعائیں ملک کے نوجوانوں کے ساتھ ہیں۔

نصیرالدین شاہ کی اس ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین اداکار کی بے باکی اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے انداز کو سراہ رہے ہیں۔