سینئر ایرانی سکیورٹی اور سیاسی عہدیدار کا کہنا ہےکہ ایران نے کسی بھی نئے حملے کا جواب دینے کے لیے اپنے تازہ فوجی منصوبے کو حتمی شکل دیدی ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق ایک سینئر ایرانی سکیورٹی اور سیاسی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایرانی مسلح افواج اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور تہران نے کسی بھی فوجی جارحیت کا جامع اور بڑے پیمانے پر جواب دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران اور عراق سمیت خلیجی ممالک اپنی سکیورٹی خود سنبھالیں، عمان
عہدیدار نے خبردار کیا کہ ایران کے مخالفین اور خطے میں ان کے اتحادیوں کو ایرانی جوابی کارروائی کے پیمانے اور شدت پر حیرت ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کو ایسی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا جسے تہران دہشت گردانہ قرار دیتا ہے تو اس کا جواب بھی اسی پیمانے پر یا اس سے زیادہ وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ممکنہ جوابی کارروائی میں مخالفین اور ان کے علاقائی اتحادیوں کی تنصیبات، مراکز اور ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایران کے سینئر حکام بھی متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ کسی نئی جنگ کی صورت میں ایران کا ردعمل صرف روایتی فوجی اہداف تک محدود نہیں رہے گا۔
ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون صلاحیتوں، زیرِ زمین فوجی تنصیبات، متبادل لانچنگ نظام اور طویل جنگ کے دوران دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کی تیاریوں کا بھی ذکر کیا جاتا رہا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے اکتوبر میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ایران نے گزشتہ جنگی مراحل میں اپنی تمام فوجی صلاحیتیں استعمال نہیں کیں اور آئندہ کسی جارحیت کی صورت میں مزید صلاحیتیں بروئے کار لائی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کا اشارہ دیدیا
دفاعی ماہرین کے نزدیک اگر ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان دوبارہ براہِ راست فوجی تصادم شروع ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران اور اسرائیل تک محدود رہنے کے بجائے پورے مشرقِ وسطیٰ کو متاثر کر سکتے ہیں۔
امریکی فوجی اڈوں، علاقائی اتحادیوں کی تنصیبات اور اہم مواصلاتی و دفاعی مراکز سے متعلق خطرات بھی خطے کی سکیورٹی صورتحال کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔




