برطانیہ کی جانب سے پناہ گزینوں کے لیے تین نئے اسپانسرشپ پروگرام متعارف کرانے کا بڑا اعلان کر دیا گیا ہے، جس سے پاکستان سمیت سات مختلف ممالک میں موجود اہل پناہ گزین مستفید ہو سکیں گے۔ تاہم اس پروگرام کے تحت پاکستان میں مقیم ہر پاکستانی شہری درخواست دینے کا اہل نہیں ہوگا، بلکہ شرط یہ عائد کی گئی ہے کہ درخواست گزار کا اپنے آبائی ملک سے باہر بطور پناہ گزین موجود ہونا لازمی ہے۔
اس نئے برطانوی اقدام کے تحت شامل کیے گئے سات ممالک میں پاکستان، بھارت، بنگلادیش، مصر، کینیا، ملائیشیا اور یوگنڈا شامل ہیں جہاں موجود پناہ گزین اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت اہل پناہ گزینوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ یکم اکتوبر 2026 سے پہلے اپنی رجسٹریشن کا عمل مکمل کریں۔
کمیونٹی اسپانسرشپ اور ہوم آفس کے ضوابط:
برطانیہ میں مقیم کم از کم پانچ افراد آپس میں مل کر ایک کمیونٹی اسپانسرشپ گروپ تشکیل دینے کے مجاز ہوں گے۔ اس تشکیل دیے گئے اسپانسرشپ گروپ کے لیے یہ قانون لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ برطانوی ہوم آفس سے باقاعدہ منظور شدہ لیڈ اسپانسر کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ تمام قانونی مراحل کو درست طریقے سے پورا کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی نژاد سرجن ڈاکٹر آصف حسن نے برطانیہ کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ جیت لیا
کسی بھی پناہ گزین خاندان کی مکمل اسپانسرشپ کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے 9 ہزار سے 15 ہزار پاؤنڈ تک کے مالی وسائل درکار ہو سکتے ہیں۔ ان مالی وسائل کے ذریعے اسپانسرز کو برطانیہ آنے والے پناہ گزینوں کے لیے رہائش کی فراہمی، مالی معاونت اور تمام دیگر بنیادی انسانی ضروریات کو پورا کرنا لازمی ہوگا تاکہ وہ وہاں باوقار زندگی گزار سکیں۔
شفافیت اور تعلیمی اسپانسرشپ کا طریقہ کار:
حکومت کی جانب سے جاری کردہ اصول و ضوابط کے مطابق اس اسپانسرشپ کے ذریعے کسی بھی پناہ گزین سے رقم وصول کرنے یا کسی قسم کا تجارتی منافع کمانے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی اور اس عمل کو مکمل طور پر شفاف رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ تعلیمی میدان میں بھی سہولت فراہم کی گئی ہے جس کے تحت برطانوی یونیورسٹیاں اہل پناہ گزین طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے باقاعدہ اسپانسر کرنے کی اہل ہوں گی۔




