انگور اڈہ واقعہ،افغان طالبان کا دعویٰ جھوٹ ومن گھڑت، وزارت اطلاعات

اسلام آباد:وزارت اطلاعات و نشریات نے پاک افغان سرحد پر جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ کے مقام پر فائرنگ کے واقعے سے متعلق افغان طالبان کے بیان کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

 وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری فیکٹ چیک میں کہا گیا ہے کہ انگور اڈہ سرحدی واقعے پر افغان طالبان کی جھوٹے بیانیے کی تازہ کوشش ایک بار پھر ان کے فریب پر مبنی طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی طالبان اور افغانستان کی تابعداری اور حمایت کرنا چاہتی تھی،پرویز خٹک

وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ افغان طالبان فورسز نے پاکستانی حدود میں غیر مسلح شہریوں پر بلااشتعال فائرنگ کی اور مارٹر گولے برسائے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق طالبان رجیم کی یہ بلااشتعال فائرنگ اس کے سرپرست بھارت کی ہدایات اور اس کے پراکسی عناصر کے طے کردہ طریقہ کار کا تسلسل ہے۔

وزارت اطلاعات کے فیکٹ چیک میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے سرحدی فائرنگ کا فوری اور بھرپور جواب دیتے ہوئے افغان طالبان فورسز کی 7 پوسٹیں تباہ کر دیں، جس کے نتیجے میں افغان طالبان کو بھاری جانی و مادی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ طالبان رجیم کے نام نہاد سرکاری ترجمانوں کے ایسے جھوٹے اور بے وقعت بیانات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، غیر نمائندہ طالبان رجیم اپنے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز 27 اکتوبر کو جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا واقعہ پیش آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:مراد سعید افغانستان میں بیٹھ کر پختونخوا حکومت کو کنٹرول کر رہے تھے، رانا ثنااللہ

سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کی جانب سے فائر کیا گیا ایک مارٹر گولہ شہری آبادی میں واقع ایک گھر پر گرا، جس کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوگئے جب کہ واقعے کے بعد مقامی آبادی میں تشویش پائی گئی۔

سکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ پاکستانی فورسز نے فائرنگ کا فوری جواب دیا اور جوابی کارروائی کے دوران افغان طالبان کی متعدد چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔