پاک۔اقوام متحدہ کانفرنس کا دوسرا روز:پیشگی انتباہ کیلئے خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال پر غور

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)پاک۔اقوام متحدہ کی بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ’’سب کیلئے پیشگی انتباہی نظام موسمیاتی اقدامات اور آفات کے خطرات کے جائزے کیلئے خلائی ٹیکنالوجی سے استفادہ‘‘ دوسرے روز بھی جاری رہی۔ 

کانفرنس کے دوسرے روز کا موضوع ’’خطرات سے انتباہ تک: خلائی ٹیکنالوجی پر مبنی آفات سے متعلق معلومات‘‘ تھا۔دوسرے روز کے دوران آفات کے خطرات کے جائزے، سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی، سیلاب کی پیش گوئی، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت اور جغرافیائی معلوماتی ٹیکنالوجیز سے متعلق تکنیکی اجلاس جاری رہے۔

 ان اجلاسوں میں قومی اور بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی اور آفات سے نمٹنے کی تیاریوں اور پیشگی انتباہی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے اپنے علم، تجربات اور معلومات کا تبادلہ کیا۔

سفیر خلیل ہاشمی نے آفات کے خطرات کے جائزے سے متعلق پاکستان کا مؤقف پیش کیا، جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (NDRMF) پاکستان کے مبشر حسین نے پاکستان کے آفات کے خطرات کے ماڈلنگ نظام (NatCat) پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

تکنیکی اجلاسوں میں بین الاقوامی تنظیموں اور خلائی اداروں کے نمائندوں نے کلیدی خطابات بھی کیے۔ ان میں عالمی تجربات، جدید طریقہ ہائے کار اور آفات کے خطرات کے جائزے، موسمیاتی اقدامات اور پیشگی انتباہی نظاموں میں خلائی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا گیا۔

اجلاسوں میں سیلاب کے خطرات میں کمی، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (GLOF) کے لیے پیشگی انتباہ، آبی ذخائر کی نگرانی، متعدد اقسام کی آفات کے خطرات کے جائزے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آفات کے انتظام میں خلائی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر بھی غور کیا گیا۔

بین الاقوامی ماہرین نے پیش گوئی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور آفات کے دوران مؤثر ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے اپنے ممالک کے تجربات اور جدید طریقہ ہائے کار بھی پیش کیے۔

دوسرے روز کی ایک اہم سرگرمی ’’آفات کے خطرات میں کمی کے لیے سینڈائی فریم ورک—پاکستان کی پیش رفت‘‘ کے موضوع پر منعقدہ پینل مباحثہ تھا۔

اس میں سائنسی شواہد، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور جغرافیائی معلومات پر مبنی انٹیلی جنس کے ذریعے آفات کے خطرات سے متعلق نظم و نسق کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پاکستان کی پیش رفت اور دستیاب مواقع کا جائزہ لیا گیا۔

پانچ روزہ کانفرنس 31 اکتوبر 2026 کو اختتامی کارروائیوں کے خلاصے، سپارکو کے Space4Climate اقدام پر پریزنٹیشنز اور شریک اداروں کے خطابات کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔ کانفرنس کا مقصد خلائی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تحقیق کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔

کانفرنس کے انعقاد کا بنیادی مقصد بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا اور پیشگی انتباہ، موسمیاتی اقدامات اور آفات کے خطرات میں کمی کے لیے خلائی ٹیکنالوجیز کے عملی استعمال کو فروغ دینا ہے۔