مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ناگزیر: نیویارک میں یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب

نیویارک، 27 اکتوبر 2026ء: یومِ سیاہ کشمیر کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب کے مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مسئلۂ جموں و کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا۔ مقررین نے بھارتی قبضے اور جبر کے دوران کئی نسلوں پر محیط کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی جدوجہد کو انصاف، انسانی وقار اور حقِ خودارادیت کے لیے ایک مسلسل جدوجہد قرار دیا ہے۔

مقررین نے کہا کہ کشمیری عوام کی مسلسل جدوجہد اقوامِ متحدہ پر خصوصی ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ اپنے منشور کے اصولوں کی پاسداری اور جموں و کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ ان کے مطابق یہ قراردادیں تنازعے کے پُرامن حل اور کشمیری عوام کو آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دلانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

تقریب کا اہتمام اور شرکا کی تفصیل:

“جموں و کشمیر 79 سالہ قبضہ، مزاحمت اور استقامت” کے عنوان سے منعقدہ اس تقریب کا اہتمام اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستان کے قونصل خانے نے مشترکہ طور پر کیا۔ تقریب میں کشمیری رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں، سفارت کاروں، طلبہ اور پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرنے والوں میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون، نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عامر احمد آتوزئی، کشمیر آگاہی فورم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر غلام نبی فائی، پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے صدر غلام قادر شاہ، ناساؤ کاؤنٹی کی انسانی حقوق کمشنر عذرا ڈار، حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کے سابق پرنسپل سیکریٹری فاروق تبسم اور سینئر کشمیری رہنما محمد تاج شامل تھے۔

سفیر عثمان جدون اور قونصل جنرل عامر احمد آتوزئی کا خطاب:

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی غیرمتزلزل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء جموں وکشمیر کی تاریخ کا ایک المناک موڑ تھا، جب کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ انہوں نے 5 اگست 2019ء کے بعد انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے من مانی گرفتاریوں، طاقت کے بے جا استعمال، جبری گمشدگیوں اور بنیادی آزادیوں پر پابندیوں سے متعلق اطلاعات کا حوالہ دیا۔

سفیر جدون نے انسانی حقوق کے تحفظ، من مانے طور پر زیرِ حراست افراد کی رہائی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کو زمینی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے بلا رکاوٹ رسائی دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلۂ کشمیر محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور عالمی نظام کی ساکھ کا معاملہ بھی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جوابدہی یقینی بنانے اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازعے کے پُرامن حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عامر احمد آتوزئی نے مسئلۂ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے کمیونٹی کی مسلسل کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے امریکہ میں مقیم پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ امریکی منتخب نمائندوں، ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مؤثر روابط قائم کرے اور نئی نسل کو کشمیر کی تاریخ اور کشمیری عوام کی جدوجہد سے آگاہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد، مستقل مزاجی اور پُرامن انداز میں مسلسل کوششیں مسئلۂ کشمیر کو عالمی ایجنڈے پر برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایکشن کمیٹی بند گلی میں! ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ایکشن کمیٹی ہے: غلام اللہ اعوان

دیگر رہنماؤں کا موقف اور مطالبات:

دیگر مقررین نے بھی بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی بنیاد پر مسئلۂ کشمیر کے منصفانہ حل کی حمایت کی اور کشمیری عوام کو آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے پر زور دیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں وکشمیر کے صدر غلام قادر شاہ نے بھارت کی جانب سے اپنے وعدوں سے انحراف کی نشاندہی کی اور مسئلۂ کشمیر پر پاکستان کی مسلسل حمایت پر اس کی سابقہ حکومتوں اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ ناساؤ کاؤنٹی کی انسانی حقوق کمشنر عذرا ڈار نے کشمیری عوام کی استقامت کو اجاگر کرتے ہوئے ان کے حقوق کے حوالے سے عالمی توجہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کے سابق پرنسپل سیکریٹری فاروق تبسم نے تنازعے کے علاقائی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلۂ کشمیر کو فراموش نہ ہونے دے۔

کشمیر آگاہی فورم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر غلام نبی فائی نے دستاویزِ الحاق (Instrument of Accession) سے متعلق تاریخی حالات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلۂ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کی کوششوں میں معاون کردار ادا کریں۔

سینئر کشمیری رہنما محمد تاج نے مشرقِ وسطیٰ میں وسیع تر جنگ کے خطرے کو ٹالنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے مسئلۂ کشمیر کے لیے مؤثر جدوجہد کی خاطر کشمیری قیادت اور عوام میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور کشمیری عوام کے حقوق کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت اور عالمی سطح پر آواز بلند کرنے پر اظہارِ تشکر کیا۔

عالمی برادری سے اپیل اور حتمی عزم:

مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کی امنگوں کو نظر انداز کر کے مسئلۂ کشمیر کا پائیدار حل ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، تنازعے کے پُرامن حل کی حمایت کرے اور جموں و کشمیر کے عوام کے لیے وقار، آزادی اور انصاف پر مبنی مستقبل یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔