کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس وقت جو راستہ اختیار کیا ہوا ہے، اس سے وہ اب ایک بند گلی میں پہنچ چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار غلام اللہ اعوان نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اب اس بند گلی سے کوئی ایسا راستہ موجود ہے کہ جس سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے وہ لوگ، جو ریاست اور ریاست کے عوام کے خلاف کھڑے تھے، ان کو ریاست کے لوگ قبول کریں گے یا ان کو معاف کریں گے۔
مزدور طبقے کی تباھی اور ترقی کے راستے میں رکاوٹ
غلام اللہ اعوان کے مطابق یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے غریب سے دو وقت کی روٹی کا نوالہ چھین لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے مزدور طبقے کو بالکل زمین بوس کر دیا اور یہی وہ طبقہ ہے جو آپ کی ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کا انتشاری ٹولہ انجام کے قریب ہے،عوامی حلقے
نفرت انگیزی اور مالی حالات پر تنقید
ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو صرف نفرت چاہتے اور بانٹتے ہیں، چاہے وہ ان کی تقاریر ہوں یا ان کا سوشل میڈیا ہو۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ان کے تو کچھ لوگ ماشاءاللہ اب کروڑ پتی بن گئے ہیں، جو پہلے ککھ پتی اور لکھ پتی تھے وہ اب کروڑ پتی ہو چکے ہیں۔
عام آدمی کی آگاہی اور لا تعلقی
انہوں نے آخر میں کہا کہ ایک عام آدمی جو ان کے پیچھے کھڑا تھا، اس نے ان کا ساتھ صرف اس وجہ سے چھوڑ دیا ہے کیونکہ وہ اب ان کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھ چکا ہے۔




