پاکستانیوں کی اوسط عمر میں کتنا اضافہ ہو گیا؟ ماہرین کا بڑا انکشاف

ماہرینِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 27 برس کے دوران پاکستانیوں کی اوسط متوقع عمر میں تقریباً 10 سال اضافہ ہوا ہے۔

 یہ انکشاف فارما ایشیا 2026 کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں سامنے آیا ہے۔ نیوٹرو فارما کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) حمید رضا نے اس کی ایک وجہ ادویات تک بہتر رسائی اور ان کے استعمال کو قرار دیا ہے۔

کراچی میں کانفرنس ’فارما ایشیا 2026‘ کے دوران حمید رضا نے کہا کہ پاکستان میں 1999 سے 2026 کے درمیان اوسط متوقع عمر میں تقریباً 10 سال اضافہ ہوا ہے اور اس میں ادویات کے استعمال نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ورزش سے دل پر کیا اثرات پڑتے ہیں؟تحقیق میں حیران انکشافات

انہوں نے یہ بات کانفرنس کے دوران ’پائیدار ترقی کے لیے سرمایہ، پیداواری صلاحیت اور ساکھ‘ کے موضوع پر ہونے والے ایک مباحثے میں کہی۔

عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، 1990 میں پاکستان میں اوسط متوقع عمر 59 سال اور 7 ماہ تھی جو 2024 میں بڑھ کر 67 سال اور 8 ماہ ہو گئی۔

 اس طرح 34 سال کے دوران اس میں 8 سال اور 1 ماہ کا اضافہ ہوا۔ سنہ 2000 میں پاکستانیوں کی اوسط متوقع عمر 61 سال 9 ماہ تک پہنچ چکی تھی۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر فیصل کھوکھر نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پاکستان کی ایک اور دوا ساز کمپنی کو اگلے سال سخت ریگولیٹری معیار رکھنے والے ادارے (ایس آر اے) کی منظوری ملنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق اس منظوری سے پاکستان میں تیار ہونے والی ادویات کو امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، جاپان، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسی بڑی بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کرنے کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر فیصل کھوکھر نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 12 سے 13 دوا ساز کمپنیاں ایسی ہیں جنہیں متعلقہ معیار کے مطابق منظوری حاصل ہے۔ ان میں سے دو کمپنیوں کو سخت ریگولیٹری معیار رکھنے والے اداروں کی منظوری مل چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیسری کمپنی کے لیے کام جاری ہے اور امید ہے کہ اگلے سال یہ منظوری حاصل ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے سے پاکستانی کمپنیوں پر عالمی منڈیوں کا اعتماد بڑھے گا۔ اس سے پاکستان میں نجی سرمایہ کاری اور وینچر کیپیٹل، یعنی ایسے سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے جو کاروبار کی ترقی کے لیے سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔

ڈاکٹر فیصل کھوکھر نے کہا کہ صرف بینکوں سے قرض لے کر ادویات سازی کی صنعت کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہے۔ چند کمپنیوں کا اپنے روابط کے ذریعے سرمایہ حاصل کر لینا پورے شعبے کے لیے مستقل حل نہیں۔

ان کے مطابق ادویات سازی ایک ایسا کاروبار ہے جس میں بہت زیادہ سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ جدید مشینری، فیکٹریوں، پیداواری سہولتوں اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ادویات تیار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں ادویات سازی کے شعبے کو نجی سرمایہ کاری اور وینچر کیپیٹل سے مالی مدد ملتی ہے۔ پاکستان کو بھی ایسے سرمایہ کاروں کو اپنی جانب راغب کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر فیصل کھوکھر کے مطابق، پاکستان کو ادویات کی تیاری کے ساتھ انہیں تجارتی بنیادوں پر مریضوں تک پہنچانے کی صلاحیت بھی بڑھانا ہوگی، تاکہ جدید ادویات کی فراہمی، بیماریوں کے علاج اور لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں:کشمش کے 7 اہم طبی فوائد اور استعمال کا صحیح طریقہ

انہوں نے کہا کہ دوا ساز کمپنیوں کو اپنی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے اور بھارت سمیت دیگر ممالک کی بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے امکانات تلاش کرنے چاہییں۔

پی پی ایم اے کے چیئرمین عدنان ہیرانی نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی ایکسپو سینٹر میں ہونے والی تین روزہ نمائش اور کانفرنس میں تقریباً 800 دوا ساز اداروں نے سات ہالز میں اپنے اسٹالز اور بوتھ قائم کیے۔ ان میں 200 سے زائد غیر ملکی مندوبین بھی شامل تھے۔