واٹس ایپ کے استعمال کے ساتھ یہ اہم سوال اٹھتا ہے کہ کیا واٹس ایپ کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن واقعی صارفین کو ہر قسم کے خطرے سے مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے یا نہیں۔ اگرچہ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پیغام صرف بھیجنے اور وصول کرنے والا ہی پڑھ سکتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کچھ مختلف ہے.
ایک نجی چینل کی رپورٹ کے مطابق، پیغامات کے مکمل محفوظ نہ ہونے کی اصل وجہ انکرپشن نہیں بلکہ صارف کے فون کی اپنی سیکیورٹی ہے۔ سائبر سیکیورٹی کے ماہر رافع بلوچ نے بتایا کہ اگر کسی نے آپ کا فون کومپرومائز کر لیا ہے یا آپ کے واٹس ایپ کو ٹیک اوور کر لیا ہے، تو اس کے پاس بھی وہی رسائی ہوتی ہے جو آپ کے پاس ہے۔ چونکہ پیغامات کو پڑھنے کے لیے کسی نہ کسی مرحلے پر ڈیکرپٹ کیا جاتا ہے، اس لیے فون تک رسائی رکھنے والا شخص بھی آپ کے پاس موجود پیغامات آسانی سے پڑھ سکتا ہے.
ایسی غیر سرکاری واٹس ایپ ایپلی کیشنز اور کلائنٹس جو براہِ راست آفیشل ایپ سورس سے ڈاؤن لوڈ نہیں کی جاتیں، وہ بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ ان میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ عام طور پر اپنی بینکنگ ایپلی کیشنز بھی اسی فون میں استعمال کر رہے ہوتے ہیں، جبکہ ان ایپس کے پاس ایس ایم ایس اور دوسرے اہم اختیارات ہوتے ہیں۔ اسٹور کے پاس ایسا کوئی میکانزم نہیں ہوتا جو یہ دیکھ سکے کہ یہ ایپلی کیشنز کون سی اجازت لے رہی ہیں اور کس طرح ڈیٹا تک رسائی حاصل کر رہی ہیں.
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ میں لوکیشن شیئرنگ فیچر کو مزید آسان اور بہتر بنا دیا گیا
مزید یہ کہ اکاؤنٹس کی اکثریت ہیکنگ کی بجائے اسکیمرز کے ذریعے کمپرومائز ہوتی ہے۔ اسکیمرز تصدیقی کوڈ طلب کرتے ہیں یا مشکوک لنکس بھیجتے ہیں اور اگر صارف کوڈ شیئر کر دے یا لنک پر کلک کر دے تو اکاؤنٹ کا کنٹرول چھین لیا جاتا ہے۔ اس وقت سب سے بڑا خطرہ سوشل انجینئرنگ کا ہے، جہاں صارفین کو لالچ دے کر او ٹی پی حاصل کیا جاتا ہے.
اپنے اکاؤنٹ کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ صارف اپنے فون کا آپریٹنگ سسٹم باقاعدگی سے اپڈیٹ رکھیں، واٹس ایپ ہمیشہ آفیشل ایپ اسٹور سے ہی ڈاؤن لوڈ کریں اور ٹو اسٹیپ ویریفیکیشن کو لازمی فعال کریں۔ اس کے علاوہ اپنا ویریفیکیشن کوڈ یا او ٹی پی کسی کے ساتھ ہرگز شیئر نہ کریں اور کسی بھی مشکوک لنک پر کلک کرنے سے مکمل گریز کریں تاکہ آپ کا اکاؤنٹ ہر قسم کے خطرے سے محفوظ رہ سکے.




