27 اکتوبر 1947ء کے اس سیاہ دن کی یاد میں، جب بھارتی غاصب فوج نے مقبوضہ وادی میں داخل ہو کر سری نگر پر فوجی قبضے کا آغاز کیا اور لاکھوں کشمیریوں سے ان کا بنیادی حق غصب کیا، آزاد کشمیر بھر میں یومِ سیاہ بھرپور طریقے سے منایا جا رہا ہے۔ اس مناسبت سے وادی لیپہ، ضلع جہلم ویلی کے ہیڈکوارٹر ہٹیاں بالا اور دارالحکومت مظفرآباد سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہروں، ریلیوں، سیمینارز اور تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے، جہاں دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کی طرح آزاد کشمیر کے عوام نے بھارتی غصب کے خلاف اپنا شدید احتجاج درج کروایا۔
وادی لیپہ میں ریڈ فاؤنڈیشن کالج کے زیرِ اہتمام 27 اکتوبر یومِ سیاہ کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں بچوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور سیاہ جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ طلبہ نے 27 اکتوبر 1947ء کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی جابرانہ قبضے کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور اقوامِ عالم سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اپنی فوجیں مقبوضہ کشمیر سے فوری طور پر واپس نکالے۔
ہٹیاں بالا میں پاسبانِ حریت کی زیرِ قیادت بچوں کا زبردست مظاہرہ:
ضلع جہلم ویلی کے شہر ہٹیاں بالا میں پاسبانِ حریت کے زیرِ اہتمام اسکول کے بچوں نے یومِ سیاہ کے حوالے سے ایک بڑا مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں سینکڑوں بچوں نے ہاتھوں میں سیاہ جھنڈے لہرا کر بھارتی فوجی قبضے کے خلاف اپنا سخت احتجاج ریکارڈ کروایا، جس کے دوران شرکا کی جانب سے بھارتی غصب کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی۔ مظاہرے کے دوران ’’بھارتیو غاصبو، جموں کشمیر چھوڑ دو‘‘، ’’ہم چھین کے لیں گے آزادی‘‘ اور ’’ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے‘‘ کے فلک شگاف نعرے گونجتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا غاصبانہ قبضہ، کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں
اس موقع پر پاسبانِ حریت کے چیئرمین عزیر احمد غزالی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء کو بھارت نے غیر قانونی طور پر جموں کشمیر پر اپنا فوجی قبضہ قائم کیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جموں کشمیر کے عوام بھارتی قبضے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور وہ صرف اور صرف بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ عزیر احمد غزالی نے اقوامِ متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دلوانے کے لیے اس پر عملدرآمد کروائے۔
دارالحکومت مظفرآباد اور شاہراہِ سری نگر پر تاریخی مارچ:
دارالحکومت مظفرآباد میں 27 اکتوبر یومِ سیاہ انتہائی عقیدت اور جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر مختلف تقریبات، جلسوں، احتجاجی ریلیوں اور سیمینارز کا انعقاد کیا گیا، جن میں تمام مقررین نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی کامل حمایت کا اعادہ کیا۔
یومِ سیاہ کی مناسبت سے علی الصبح کشمیریوں نے مظفرآباد سے کنٹرول لائن کی جانب شاہراہِ سری نگر پر ایک طویل مارچ شروع کیا۔ مارچ کے شرکا نے پیش قدمی کرتے ہوئے کنٹرول لائن پر واقع ضلع جہلم ویلی، ہٹیاں بالا پہنچ کر بھارت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا۔ آج ریاست جموں کشمیر اور کنٹرول لائن کے دونوں جانب کشمیری یہ دن یومِ سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔ مظفرآباد سمیت آزاد کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں اور ریاست پر 27 اکتوبر 1947ء کو سری نگر کے مقام پر شروع ہونے والے بھارتی فوجی قبضے کے خلاف احتجاج جاری ہے۔
وادی نیلم: کنٹرول لائن پر ’یومِ سیاہ‘ احتجاجی ریلی، طلبہ کے ہاتھوں میں سیاہ پرچم
وادی نیلم میں کنٹرول لائن کے قریب بھارت کے جموں و کشمیر پر غاصبانہ اور غیر قانونی قبضے کے خلاف یومِ سیاہ بھرپور جوش و جذبے اور احتجاجی انداز میں منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر مقامی کشمیریوں نے کنٹرول لائن کے بالکل قریب بھارت کی غاصبانہ پالیسیوں اور مظالم کے خلاف ایک بہت بڑی احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی میں اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی، جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں سیاہ پرچم اٹھا رکھے تھے اور 27 اکتوبر 1947ء کو سری نگر پر ہونے والےبھارتی فوجی قبضے کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے عالمی برادری سے کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دلوانے کا پرزور مطالبہ کیا۔
ہٹیاں بالا: 27 ’یومِ سیاہ‘ کے موقع پر پل بازار سے ڈسٹرکٹ پریس کلب تک احتجاجی ریلی کا انعقاد
ضلعی ہیڈکوارٹر ہٹیاں بالا میں 27 اکتوبر یومِ سیاہ کی مناسبت سے بھارت کے ناپاک اور غاصبانہ قبضے کے خلاف ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ یہ احتجاجی ریلی شہر کے مرکزی پل بازار سے شروع ہوئی اور مختلف شاہراؤں سے گزرتی ہوئی ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کے شرکا نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور پرچم اٹھا کر 27 اکتوبر 1947ء کے بھارتی فوجی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حق میں زوردار نعرے بازی کی اور عالمی برادری سے بھارتی مظالم کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔




