ایل پی جی گیس سلنڈر کیس: سیکرٹری انڈسٹریز اور کمشنرز کل ہائی کورٹ طلب

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں ایل پی جی گیس سلنڈرز کی قیمتوں میں مبینہ ناجائز اور بے تحاشا اضافے کے خلاف دائر آئینی رٹ پٹیشن پر کل عدالت العالیہ (ہائی کورٹ) میں انتہائی اہم سماعت ہوگی۔ اس اہم کیس کی سماعت کے دوران سیکرٹری انڈسٹریز اور آزاد کشمیر کے تینوں ڈویژنز کے جملہ کمشنرز کی عدالت میں باضابطہ پیشی متوقع ہے۔

 ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے ایل پی جی گیس سلنڈر مہنگے داموں فروخت کرنے کے خلاف دائر آئینی درخواست پر کل مورخہ 27 اکتوبر کو ہائی کورٹ میں پیش رفت ہوگی، جس میں عدالت نے متعلقہ اعلیٰ حکام کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا ہے۔

وکلاء کی آئینی درخواست اور اوگرا نرخوں کی خلاف ورزی:

واضح رہے کہ آزاد کشمیر کے تین وکلاء نے مفادِ عامہ کے تحت ہائی کورٹ میں یہ آئینی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ وکلاء نے اپنے موقف میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آزاد کشمیر بھر میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے مقرر کردہ سرکاری نرخوں سے دگنی قیمت پر ایل پی جی گیس سلنڈر فروخت کیے جا رہے ہیں، جو عوام کا معاشی استحصال ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہائیکورٹ :گیس قیمتوں میں اضافے کیخلاف رٹ دائر، سیکرٹری انڈسٹریز،ڈویژنل کمشنرز عدالت طلب

عوام کو سستی گیس کی فراہمی اور قانونی کارروائی کا مطالبہ:

درخواست گزار وکلاء نے عدالت العالیہ سے استدعا کی ہے کہ اوگرا نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر اور گراں فروشوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور آزاد کشمیر کی عوام کو مقررہ اور سستے نرخوں پر ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

کل کی سماعت اور حکومتی موقف کا انتظار:

کل عدالت میں سیکرٹری انڈسٹریز سمیت تینوں ڈویژنز کے کمشنر صاحبان پیش ہو کر اپنا موقف پیش کریں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامی حکام عدالت کے سامنے کیا موقف اختیار کرتے ہیں اور ہائی کورٹ اس مفادِ عامہ کے کیس میں کیا احکامات اور فیصلے جاری کرتی ہے۔