شاردہ، کیل اور گریس ویلی میں ریسکیو 1122 کے قیام کی تیاریاں

وادی نیلم(راجہ ساجد) ڈائریکٹرآپریشنز وریسکیو 1122،(SDMA)مظفرآبادمعظم ظفرنےاپر نیلم کا دو روزہ دورہ کیا،جس کا مقصد شاردہ، کیل اور گریس ویلی میں ریسکیو 1122 ایمرجنسی سروسز کا باقاعدہ سیٹ اپ قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا اور اس حوالے سے سفارشات مرتب کرکے حکومت آزاد جموں و کشمیر کو پیش کرنا ہے۔

دورے کے دوران ڈائریکٹر آپریشنز نے جورا، شاردہ، کیل اور ہلمت کے مقامات پر مقامی کمیونٹی اور انتظامیہ کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کوٹلی میں ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کے زیراہتمام 8 اکتوبر کے شہداء کی یاد میں دعائیہ تقریب

 اس موقع پر علاقے کو درپیش قدرتی اور انسانی آفات، ہنگامی حالات میں امدادی کارروائیوں اور مقامی سطح پر آفات سے نمٹنے کی استعداد بہتر بنانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقاتوں میں بالخصوص موسم سرما کے دوران گھریلو آتشزدگی کے بڑھتے ہوئے خدشات، آگ لگنے کے ممکنہ اسباب اور ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات پر زور دیا گیا۔

 ڈائریکٹر آپریشنز نے اس امر کی اہمیت اجاگر کی کہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں ہنگامی حالات سے بروقت نمٹنے کیلئے مربوط حکمت عملی، عوامی آگاہی اور مؤثر ریسکیو نظام ناگزیر ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سردیوں میں گھروں کو آگ لگنے کے واقعات سے بچاؤ کیلئے عوام میں شعور اجاگر کرنے، احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ہنگامی صورتحال میں فوری امداد کی فراہمی کیلئےجامع منصوبہ بندی کی جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں اور املاک کو محفوظ بنایا جاسکے۔

دورے کے دوران شاردہ، کیل اور گریس ویلی میں ریسکیو 1122 کے باقاعدہ مراکز کے قیام کیلئے مقامی ضروریات، جغرافیائی صورت حال، آبادی اور ہنگامی امداد کی دستیابی سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

 اس سلسلے میں مرتب کی جانے والی سفارشات حکومت کو پیش کی جائیں گی تاکہ اپر نیلم کے دور دراز علاقوں میں ایمرجنسی ریسکیو سروسز کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کئے جاسکیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مظفر آباد ، بارشوں کے باعث جانی و مالی نقصانات میں اضافہ، ریسکیو 1122 ہائی الرٹ

مقامی انتظامیہ اور کمیونٹی نمائندوں نے اپر نیلم میں ریسکیو 1122 کا مستقل نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ اس اقدام سے حادثات، آتشزدگی اور دیگر ہنگامی حالات میں بروقت امداد کی فراہمی ممکن ہوگی اور عوام کو درپیش مشکلات میں کمی آئے گی۔