اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) ملک بھر میں الیکٹرک بائیکس کے استعمال کو فروغ دینے اور شہریوں کو متبادل سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے 90 روز کے اندر ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کا اہم منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بائیک خریدنے والے شہریوں کو 80ہزار روپے کی سبسڈی دینے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
تفصیلات کے مطابق انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) نے الیکٹرک بائیکس کی تیاری اور ان کی بروقت فراہمی کے لیے مختلف کمپنیوں سے باقاعدہ درخواستیں طلب کر لی ہیں۔
مسابقتی بولی اور بیچز کی تشکیل:
منصوبے کی تفصیلات کے مطابق بائیکس کی منظم فراہمی کے لیے ۲۰۰ بیچز تشکیل دیے جائیں گے، جن میں سے ہر ایک بیچ کے اندر ۵۰۰ الیکٹرک بائیکس شامل ہوں گی۔
انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ منصوبے کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کمپنیوں کا انتخاب مسابقتی بولی (کمپیٹیٹو بیڈنگ) کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس دوران مقامی صنعت کو فروغ دینے اور الیکٹرک بائیکس کی تیاری میں ملکی کمپنیوں کی شمولیت کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد: ایمز ہسپتال میں مبینہ لوٹ مار، اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ
درخواستیں جمع کرانے کا طریقہ اور حتمی تاریخ:
ای ڈی بی کے حکام کے مطابق الیکٹرک بائیکس کی تیاری اور فراہمی کی خواہش مند کمپنیاں اپنی درخواستیں ۳ نومبر ۲۰۲۶ء کو صبح ۱۱ بجے تک پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے ای پورٹل (E-Portal) پر آن لائن جمع کرا سکتی ہیں۔
درخواست جمع کروانے کے لیے پانچ ہزار روپے کی ناقابلِ واپسی فیس مقرر کی گئی ہے۔ بورڈ نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ جو کمپنیاں پہلے سے ہی اس منصوبے کے لیے اہل قرار دی جا چکی ہیں، انہیں دوبارہ سے درخواست جمع کرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہو گی۔
شہریوں کے لیے 80 ہزار روپے سبسڈی کی تجویز:
منصوبے کے تحت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر فی بائیک ۸۰ ہزار روپے کی سبسڈی دینے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس سبسڈی کی منظوری اور اس پر عمل درآمد کی حتمی تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
حکام کے مطابق اس جامع منصوبے کا بنیادی مقصد ملک میں الیکٹرک بائیکس کے رجحان اور استعمال کو تیز کرنا، مقامی صنعتی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنا اور عوام کو سستی و متبادل سفری سہولیات میسر بنانا ہے۔




