مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) مظفرآباد کے ایمز ہسپتال امبور میں آنے والے غریب مریضوں سے مبینہ طور پر شدید لوٹ مار اور استحصال کی سنگین شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ان شکایات کے بعد عوامی و سماجی حلقوں میں تشویش کی شدید لہر دوڑ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایمز ہسپتال امبور میں زیرِ علاج مریضوں سے آپریشنز کے نام پر بھاری رقوم طلب کی جا رہی ہیں اور مبینہ طور پر ایزی پیسہ یا دیگر مالی ذرائع کا استعمال کر کے رقم وصول کی جا رہی ہے۔ ان سنگین الزامات کے بعد عوامی حلقوں کی جانب سے ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سردار ادریس مغل اور دیگر متعلقہ ڈاکٹروں کے کردار کی فوری اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
غریب عوام پر مہنگائی کے اثرات اور علاج کے مسائل:
حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک طرف پہلے ہی موجودہ شدید مہنگائی کے باعث پریشان حال غریب عوام اپنے پیاروں کے علاج معالجے اور ان کی زندگی بچانے کی خاطر اپنے زیورات، مال مویشی اور گھریلو سامان تک بیچنے پر مجبور ہیں۔
ایسی لاچاری کی صورتحال میں سرکاری ہسپتال کے اندر علاج معالجے کے حوالے سے اس نوعیت کی شکایات کا سامنے آنا عام شہریوں کے لیے شدید ترین تشویش، صدمے اور مایوسی کا باعث بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد: سیری درہ روڈ پر مسافر جیپ کھائی میں جاگری، 6 افرادجاں بحق
علاج گاہوں کی بنیادی ذمہ داری اور عوامی تشویش:
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ان تمام عائد کردہ الزامات اور شکایات میں ذرہ برابر بھی سچائی پائی جاتی ہے تو یہ عمل نہایت افسوس ناک، شرمناک اور مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
شہریوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتال اور طبی مراکز عام عوام کی بلا تفریق خدمت کے لیے قائم کیے جاتے ہیں، نہ کہ کسی مجبوری کا شکار مریض کی لاچاری اور بے بسی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر اور محکمہ صحت سے اقدام کا مطالبہ:
اس تشویشناک صورتحال کے تناظر میں عوامی حلقوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر سید افتخار گیلانی، وزیر صحت عامہ اور سیکرٹری صحت عامہ سے پرزور اور فوری مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا بلا تاخیر نوٹس لیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال کی انتظامیہ اور متعلقہ ڈاکٹروں کے خلاف اعلیٰ سطحی اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں تمام ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے۔




