خام تیل مزید مہنگا،قیمتیں 5ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد برینٹ خام تیل پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں نے خطے سے توانائی کی رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھا دیئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول ایک روپے60روپے سستا،ڈیزل1روپے 64پیسے مہنگا،نوٹیفکیشن جاری

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 2.42 ڈالر، یعنی 2.2 فیصد اضافے کے بعد 111.24 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 1.14 ڈالر، یعنی 1.2 فیصد بڑھ کر 98.29 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے خلاف کارروائی کے اشارے دے دیئے۔ جو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے۔

رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے سعودی عرب میں امریکی عملے کو ملک چھوڑنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے، جبکہ ایران پر ممکنہ نئے حملوں سے متعلق اطلاعات نے توانائی کی عالمی رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھا دیئے ہیں۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی اور تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول کی طرح ایل پی جی کی قیمت میں بھی شفافیت لائیں گے، وزیر پیٹرولیم

رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل مسلسل تیسرے موقع پر ایک ہفتے کے دوران تکنیکی اعتبار سے حد سے زیادہ خریداری کی سطح میں داخل ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی برینٹ کے 18 مئی کے بعد بلند ترین سطح پر کاروبار کے اختتام کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے بعد عالمی توانائی کی منڈی میں رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔